ترجمہ — Tafsir
### معانی الفاظ:
- عاد: قومِ حضرموت (یمن) کے علاقے میں آباد ہونے والی قوم، جن کی طرف حضرت ہود علیہ السلام مبعوث ہوئے۔
- ثمود: حجر (مدینہ کے قریب) کے علاقے میں رہنے والی قوم، جن کی طرف حضرت صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے۔
- تبیّن: واضح ہو جانا، ظاہر ہو جانا۔
- مساکن: رہائش گاہیں، گھر۔
- زیّن: خوبصورت بنا کر پیش کیا، بھلا دکھایا۔
- صدّ: روک دیا، باز رکھا۔
- مستبصرین: بصیرت والے، سمجھ بوجھ رکھنے والے، حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھنے والے۔
### تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں قومِ عاد اور قومِ ثمود کا تذکرہ فرما رہے ہیں، جنہیں ان کے کفر و سرکشی کی وجہ سے ہلاک کر دیا گیا۔ اے اہلِ مکہ! تم خود اپنے سفرِ تجارت میں ان کی بستیوں کے کھنڈرات دیکھ چکے ہو — عاد کی بستی "احقاف" اور ثمود کی بستی "حِجر" — جو ان کے انجامِ بد کی زندہ گواہ ہیں۔ یہ ویران گھر اور تباہ حال مسکن خود بتا رہے ہیں کہ اللہ کا عذاب کیسے آیا اور ان کی طاقت و شوکت کچھ کام نہ آئی۔
مگر ان قوموں کا انجام صرف ظاہری عذاب تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل سبب یہ تھا کہ شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا دیا — ان کے کفر، شرک، ظلم اور معاصی کو ایسا دلفریب دکھایا کہ وہ انہیں برا سمجھتے ہی نہیں تھے۔ یہی شیطان کا سب سے بڑا حربہ ہے کہ وہ انسان کے برے اعمال کو اچھا دکھا کر اسے راہِ راست سے بھٹکا دیتا ہے۔ نتیجتاً وہ سیدھے راستے (توحید، ایمان اور اطاعتِ الٰہی) سے روک دیے گئے۔
اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ "مستبصرین" تھے یعنی وہ عقل و بصیرت رکھتے تھے، حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، ان کے پاس علم اور سمجھ تھی، لیکن انہوں نے اپنی اس بصیرت کو استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے جان بوجھ کر حق کو چھوڑا اور باطل کو اختیار کیا۔ وہ اپنے کفر پر مغرور تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ ہدایت پر ہیں، حالانکہ وہ گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
### دعوتی انداز:
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے! اے بھائیو! ہماری عقل اور بصیرت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے، لیکن یہ نعمت تبھی کارآمد ہے جب ہم اسے اللہ کی اطاعت میں استعمال کریں۔ شیطان ہر وقت ہماری تاک میں ہے کہ ہمارے برے اعمال کو ہماری نظر میں اچھا بنا دے — ایک چھوٹا سا گناہ، ایک جھوٹ، ایک غیبت، ایک نماز میں سستی — یہ سب شیطان کے بنائے ہوئے خوبصورت پردے ہیں۔ ہمیں اپنی بصیرت سے کام لینا ہے، قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے اعمال کو پرکھنا ہے، اور شیطان کے دھوکے سے بچنا ہے۔ ورنہ انجام وہی ہوگا جو عاد و ثمود کا ہوا — تباہی اور رسوائی۔ اللہ ہمیں بصیرت عطا فرمائے اور شیطان کے مکر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 36-40 — عنکبوت
ترجمہ — عنکبوت 38
سورہ عنکبوت آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر…سورہ آیت 38/69 — عنکبوت العنكبوت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عنکبوت سنیں, عنکبوت ترجمہ, عنکبوت mp3, عنکبوت pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








