ترجمہ — Tafsir
قارون، فرعون اور ہامان کا انجامِ بد
معانی الفاظ:
- قارون: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا ایک مالدار شخص جو بغاوت اور سرکشی پر اتر آیا تھا۔
- فرعون: مصر کا بادشاہ جو اپنی سلطنت اور طاقت پر نازاں تھا اور اللہ کی آیات کا منکر تھا۔
- ہامان: فرعون کا وزیر جو اس کے ظلم و جبر میں اس کا ساتھی تھا۔
- بَیّنات: واضح دلائل اور معجزات۔
- سابقین: بھاگ جانے والے، عذاب سے نکل جانے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے اور کفارِ مکہ کو ڈراتے ہوئے ان قوموں کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا اور انجامِ بد سے دوچار ہوئیں۔ ان میں قارون، فرعون اور ہامان کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔
قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا ایک شخص تھا جسے اللہ نے بے پناہ دولت دی تھی، لیکن اس نے اپنی دولت پر غرور کیا اور اپنی قوم پر ظلم و زیادتی کرنے لگا۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا جو اپنی سلطنت اور طاقت کے نشے میں چور تھا اور ہامان اس کا وزیر تھا جو اس کے ظلم کا شریک تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام واضح معجزات اور دلائل لے کر آئے۔ انہوں نے اپنی نبوت کے ثبوت میں ایسے معجزے دکھائے جو عقل کو حیران کر دیتے تھے، جیسے عصا کا سانپ بن جانا، ید بیضاء، اور دیگر نشانیاں۔ لیکن ان سب کے باوجود انہوں نے ایمان لانے سے انکار کیا اور زمین میں سرکشی اور تکبر کا راستہ اختیار کیا۔
ان کا تکبر صرف اللہ سے بغاوت تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کی دعوت کو رد کیا اور اپنی قوموں کو بھی ایمان سے روکتے رہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی طاقت اور دولت انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لے گی، لیکن وہ بھول گئے کہ اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
نتیجتاً، اللہ نے قارون کو اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا، اور فرعون اور ہامان کو سمندر میں غرق کر دیا۔ وہ اللہ کے عذاب سے بھاگ نہ سکے اور نہ ہی ان کی قوتوں نے انہیں بچایا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ مال، طاقت اور عہدہ کبھی بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔ آج بھی جو لوگ اپنی دولت، عزت یا طاقت پر غرور کرتے ہیں اور اللہ کے احکام کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، ان کا انجام بھی انہی لوگوں جیسا ہوگا۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اطاعت میں سر جھکائے، تکبر سے بچے اور یاد رکھے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر غالب ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ اپنے انبیاء کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ہمیشہ ذلیل و خوار کرتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔
📜 آیت 37-41 — عنکبوت
ترجمہ — عنکبوت 39
سورہ عنکبوت آیت 39 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کر…سورہ آیت 39/69 — عنکبوت العنكبوت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عنکبوت سنیں, عنکبوت ترجمہ, عنکبوت mp3, عنکبوت pdf. آیت 37–41. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








