ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خیر امت: سب سے بہترین امت اور لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش جماعت۔
- أخرجت للناس: جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہو۔
- المعروف: وہ کام جو شریعت اور عقل کی نظر میں اچھا اور پسندیدہ ہو۔
- المنکر: وہ کام جسے شریعت اور عقل برا اور قبیح قرار دے۔
- الفاسقون: دینِ حق سے نکل جانے والے، نافرمان لوگ۔
تفسیر آیات:
اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تم سب سے بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے۔ تمہاری فضیلت اور برتری کا راز تین اعمال میں مضمر ہے: تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو، اور اللہ پر کامل ایمان رکھتے ہو۔ یہی وہ صفات ہیں جنہوں نے تمہیں دنیا کی تمام امتوں پر فوقیت عطا کی ہے۔ تمہارا یہ مقام کوئی اتفاقی نہیں، بلکہ یہ تمہارے ایمان اور عمل کا نتیجہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمہیں وہ معیار بتا دیا ہے جس پر قائم رہ کر تم خیرِ امت بن سکتے ہو۔ امر بالمعروف کا مطلب ہے کہ لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاؤ، انہیں نیکی کی تلقین کرو، اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے کہ برائیوں سے روکو اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کرو۔ یہ کام محض زبان سے نہیں بلکہ عمل سے بھی کرنا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ پر سچے اور پکے ایمان کی بنیاد پر ہو، جو صرف زبانی دعویٰ نہ ہو بلکہ عمل سے ثابت ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس پیغام پر ایمان لے آتے جو آپ اللہ کی طرف سے لائے ہیں، تو یہ ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بہتر ہوتا۔ لیکن افسوس! ان میں سے صرف تھوڑے سے لوگ ایمان لائے، جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، اور ان کی اکثریت ایمان لانے سے انکاری رہی اور دینِ حق سے نکل گئی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ نے ہمیں جو مقام عطا کیا ہے وہ بہت بلند ہے، لیکن یہ مقام ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ یہ اس وقت تک ہمارا ہے جب تک ہم ان صفات پر قائم رہیں گے۔ اگر ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک کر دیں اور ایمان میں کمزوری پیدا ہو جائے تو یہ فضیلت ہم سے چھن سکتی ہے۔ آج ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اس مقام کو پہچانیں اور اس کے تقاضوں کو پورا کریں۔ اپنے گھر سے، اپنے محلے سے، اپنے معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور نیکیوں کو فروغ دیں۔ یاد رکھیں، یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے۔ اللہ ہمیں اپنی اس فضیلت کو برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 108-112 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 110
سورہ آل عمران آیت 110 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم…سورہ آیت 110/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 108–112. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








