آل عمران · 110/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ ۝١١٠
Kuntum khaira ummatin ukhrijat linnaasi taamuroona bilma`roofi wa tanhawna `anil munkari wa tu`minoona billaah; wa law aamana Ahlul Kitaabi lakaana khairal lahum minhumul mu`minoona wa aksaruhumul faasiqoon
📖 اردو ترجمہ
(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خیر امت: سب سے بہترین امت اور لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش جماعت۔
  • أخرجت للناس: جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہو۔
  • المعروف: وہ کام جو شریعت اور عقل کی نظر میں اچھا اور پسندیدہ ہو۔
  • المنکر: وہ کام جسے شریعت اور عقل برا اور قبیح قرار دے۔
  • الفاسقون: دینِ حق سے نکل جانے والے، نافرمان لوگ۔

تفسیر آیات:

اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تم سب سے بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے۔ تمہاری فضیلت اور برتری کا راز تین اعمال میں مضمر ہے: تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو، اور اللہ پر کامل ایمان رکھتے ہو۔ یہی وہ صفات ہیں جنہوں نے تمہیں دنیا کی تمام امتوں پر فوقیت عطا کی ہے۔ تمہارا یہ مقام کوئی اتفاقی نہیں، بلکہ یہ تمہارے ایمان اور عمل کا نتیجہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمہیں وہ معیار بتا دیا ہے جس پر قائم رہ کر تم خیرِ امت بن سکتے ہو۔ امر بالمعروف کا مطلب ہے کہ لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاؤ، انہیں نیکی کی تلقین کرو، اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے کہ برائیوں سے روکو اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کرو۔ یہ کام محض زبان سے نہیں بلکہ عمل سے بھی کرنا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ پر سچے اور پکے ایمان کی بنیاد پر ہو، جو صرف زبانی دعویٰ نہ ہو بلکہ عمل سے ثابت ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس پیغام پر ایمان لے آتے جو آپ اللہ کی طرف سے لائے ہیں، تو یہ ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بہتر ہوتا۔ لیکن افسوس! ان میں سے صرف تھوڑے سے لوگ ایمان لائے، جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، اور ان کی اکثریت ایمان لانے سے انکاری رہی اور دینِ حق سے نکل گئی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ نے ہمیں جو مقام عطا کیا ہے وہ بہت بلند ہے، لیکن یہ مقام ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ یہ اس وقت تک ہمارا ہے جب تک ہم ان صفات پر قائم رہیں گے۔ اگر ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک کر دیں اور ایمان میں کمزوری پیدا ہو جائے تو یہ فضیلت ہم سے چھن سکتی ہے۔ آج ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اس مقام کو پہچانیں اور اس کے تقاضوں کو پورا کریں۔ اپنے گھر سے، اپنے محلے سے، اپنے معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور نیکیوں کو فروغ دیں۔ یاد رکھیں، یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے۔ اللہ ہمیں اپنی اس فضیلت کو برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 108-112 — آل عمران

108تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۗ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِينَ
یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہلِ عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا
109وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے
110كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ
(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں
111لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى ۖ وَإِن يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ
اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی
112ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ
یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
110آیت

ترجمہ — آل عمران 110

سورہ آل عمران آیت 110 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم…

سورہ آیت 110/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 108–112. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں