ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اَوْلٰی: زیادہ حق دار، قریب تر
- اُمَّهَاتُهُمْ: ان کی مائیں
- اُولُوا الْاَرْحَامِ: رشتہ دار، قرابت دار
- مَعْرُوْفًا: بھلائی، احسان، اچھا سلوک
- مَسْطُوْرًا: لکھا ہوا، مقرر کیا ہوا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے حبیب، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور اہمیت کو بیان فرماتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے لیے خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب اور حق دار ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم، آپ کی محبت، آپ کی اطاعت اور آپ کی رضا ہر مومن کی اپنی خواہش، اپنی رائے اور اپنی جان سے بڑھ کر ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاملے میں حکم دیں تو مومن کو اپنی پسند اور اپنے فائدے کو چھوڑ کر آپ کے حکم کو ماننا ہے، کیونکہ آپ کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات تمام مومنین کی مائیں ہیں۔ یعنی ان کی تعظیم، احترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک واجب ہے، جیسے ماں کا احترام واجب ہوتا ہے۔ ان سے نکاح کرنا حرام ہے، اور ان کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا سخت گناہ ہے۔ یہ امت کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ ان کی مائیں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وراثت کے اصول کو واضح فرمایا کہ رشتہ دار آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، اللہ کے حکم اور کتاب میں یہی مقرر ہے۔ ابتداء اسلام میں مہاجرین اور انصار آپس میں بھائی چارے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے، لیکن یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اب وراثت صرف رشتہ داری اور قرابت کی بنیاد پر ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے یہ اجازت دی کہ اگر کوئی شخص اپنے دوستوں یا ان لوگوں کے لیے جو رشتہ دار نہیں ہیں، وصیت کرنا چاہے یا انہیں کچھ دینا چاہے، تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ یہ وراثت کے حصوں سے تجاوز نہ کرے۔
یہ سب کچھ اللہ کے علم میں پہلے سے لکھا ہوا تھا، اور اللہ کا حکم ہمیشہ سے اپنی جگہ ثابت اور مقرر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ اگر ہم واقعی مومن ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھنا چاہیے۔ آپ کی سنت کو اپنانا، آپ کے حکم کو ماننا اور آپ کے راستے پر چلنا ہی ہماری کامیابی ہے۔
دوسری بات یہ کہ امہات المومنین کا احترام کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان کی عزت کرنا، ان کے بارے میں اچھی رائے رکھنا اور ان کی سیرت سے محبت کرنا ہر مومن کا فریضہ ہے۔
تیسری بات یہ کہ رشتہ داریوں کو نبھانا اور قرابت داروں کے حقوق ادا کرنا اسلام کا اہم درس ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کریں، ان کی مدد کریں اور ان کے حقوق ادا کریں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کا نظام کامل ہے، اور اس کی کتاب میں ہر چیز مقرر اور لکھی ہوئی ہے۔ ہمیں اللہ کے احکام پر بلا چون و چرا عمل کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی مخلوق کے لیے کیا بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 4-8 — احزاب
ترجمہ — احزاب 6
سورہ احزاب آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق…سورہ آیت 6/73 — احزاب الأحزاب (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احزاب سنیں, احزاب ترجمہ, احزاب mp3, احزاب pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








