اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے۔ اور عہد بھی اُن سے پکّا لیا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِيثَاقًا غَلِيظًا: سخت اور پختہ عہد، جس کی خلاف ورزی کسی صورت میں قابلِ قبول نہ ہو۔
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! آپ اُس وقت کو یاد کریں جب ہم نے تمام انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا تھا کہ وہ اللہ کی وحدانیت کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں، اور جو وحی انہیں دی گئی ہے اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ عہد صرف عام نہیں تھا، بلکہ خاص طور پر آپ ﷺ اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام سے لیا گیا، جو اولو العزم رسول ہیں۔ ان سے ہم نے انتہائی سخت اور پختہ عہد لیا کہ وہ رسالت کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی نہ کریں، امانت کو پورا کریں، اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔
یہ عہد اس قدر مضبوط تھا کہ اس کی پاسداری ہر حال میں لازم تھی، چاہے کتنی ہی مشکلات اور رکاوٹیں کیوں نہ آئیں۔ انبیاء علیہم السلام نے یہ عہد اس لیے اٹھایا تاکہ اللہ کا دین زمین پر قائم ہو اور لوگ اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آئیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں سے بھی عہد لیا، تو ہم مسلمانوں کو بھی اپنے ایمان اور دین کے ساتھ وفاداری کا عہد کرنا چاہیے۔ جس طرح انبیاء علیہم السلام نے اپنی رسالت کو پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ہمیں بھی اپنے اردگرد کے لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔ یہ عہد ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنے دین کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔ یاد رکھیں! اللہ کا عہد مضبوط ہے اور وہ عہد شکنی کو پسند نہیں فرماتا۔ آئیے ہم بھی اپنے رب سے یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے دین کے مطابق گزاریں گے اور اس کی رضا کے طلبگار رہیں گے۔
مومنو! لےپالکوں کو اُن کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے۔ اگر تم کو اُن کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب الله کے رُو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ (تو اور بات ہے) ۔ یہ حکم کتاب یعنی (قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے
مومنو خدا کی اُس مہربانی کو یاد کرو جو (اُس نے) تم پر (اُس وقت کی) جب فوجیں تم پر (حملہ کرنے کو) آئیں۔ تو ہم نے اُن پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل کئے) جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا اُن کو دیکھ رہا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔