اسْتَكْبَرُوا: جنہوں نے بڑائی اور تکبر کیا، یعنی سردار اور رہنما۔
اسْتُضْعِفُوا: جنہیں کمزور سمجھا گیا، یعنی عام لوگ اور پیروکار۔
صَدَدْنَاكُمْ: ہم نے تمہیں روکا یا منع کیا۔
الْهُدَىٰ: ہدایت، راہِ راست، یعنی ایمان اور حق۔
مُجْرِمِينَ: مجرم، گنہگار، کافر۔
تفسیر:
قیامت کے دن جب اہلِ جہنم کے درمیان بحث و تکرار ہوگی تو وہ سردار اور بڑے لوگ جنہوں نے دنیا میں تکبر کیا تھا، ان کمزور لوگوں سے جنہیں وہ اپنا پیروکار بنائے ہوئے تھے، یہ کہیں گے: "کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی؟" یعنی ہم نے تمہیں زبردستی گمراہ نہیں کیا، نہ ہم نے تمہارے دل بند کیے تھے۔ ہم نے تو صرف تمہیں دعوت دی تھی، لیکن تم نے خود اپنی مرضی اور اختیار سے ہماری بات مان لی اور حق کو ٹھکرا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے، کیونکہ تم نے ہدایت کے سامنے آنے کے باوجود اسے قبول نہیں کیا، بلکہ اپنے کفر اور گناہ پر قائم رہے۔
یہ وہ وقت ہوگا جب سارے بہانے بیکار ہوجائیں گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل اور اختیار دیا ہے، اور رسول بھیج کر حجت تمام کردی ہے۔ پس جو شخص ہدایت قبول کرے وہ اپنے فائدے کے لیے، اور جو گمراہی اختیار کرے وہ اپنے نقصان کے لیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کا الزام دوسروں پر نہ ڈالیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے، قرآن دیا ہے، اور رسول ﷺ کی تعلیمات دی ہیں۔ اگر ہم آج اس ہدایت کو قبول کرلیں تو یہی ہماری کامیابی ہے۔ یاد رکھیں، قیامت کے دن کوئی بہانہ قبول نہیں ہوگا، نہ کوئی سفارش کام آئے گی سوائے ایمان اور عملِ صالح کے۔ آج کا دن ہے عمل کا، کل حساب کا دن ہوگا۔ اللہ ہمیں ہدایت پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو حق کو قبول کرتے ہیں اور اس پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ آمین۔
اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے
اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو عمل وہ کرتے تھے ان ہی کا ان کو بدلہ ملے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔