ص · 24/88
ترجمہ تلفظ — ص
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩ ۝٢٤
Qaala laqad zalamaka bisu `aali na`jatika ilaa ni`aajihee wa inna kaseeram minal khulataaa`i la-yabghee ba`duhum `alaa ba`din illal lazeena aamanoo wa `amilus saalihaati wa qaleehum maa hum; wa zanna Daawoodu annamaa fatannaahu fastaghrara Rabbahoo wa kharra raaki`anw wa anaab
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَعْجَة: بھیڑ (مادہ
  • نِعَاج: بھیڑیں (جمع
  • خُلَطَاء: شریک، ساتھی (کاروبار یا معاملات میں
  • لَيَبْغِي: ضرور زیادتی کرتا ہے، ظلم کرتا ہے۔
  • فَتَنَّاهُ: ہم نے اسے آزمایا۔
  • خَرَّ رَاكِعًا: سجدے میں گر گیا۔
  • أَنَابَ: رجوع کیا، توبہ کی۔

تفسیر:

حضرت داؤد علیہ السلام نے اس شخص سے کہا جو اپنی بھیڑ کے بارے میں شکایت لے کر آیا تھا: "یقیناً تمہارے بھائی (یعنی اس شخص نے جو تم سے بھیڑ مانگی تھی) نے تم پر ظلم کیا ہے کہ اس نے تمہاری بھیڑ کو اپنی بھیڑوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔" یہ فیصلہ سناتے ہوئے آپ نے یہ حقیقت بھی بیان فرمائی کہ بہت سے شراکت دار اور ساتھی ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں، ایک دوسرے کا حق مارتے ہیں اور انصاف نہیں کرتے۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں، وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں اور ظلم نہیں کرتے۔ مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں۔

اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کو یقین ہو گیا کہ ہم نے انہیں اس جھگڑے کے ذریعے آزمایا ہے، اور ان سے کوئی نہ کوئی کوتاہی سرزد ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ آزمائش ہوئی۔ چنانچہ آپ نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی، سجدے میں گر گئے اور اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی اور اپنی تمام کوتاہیوں سے باز آ گئے۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ انصاف کرنا کتنا بڑا فضیلت کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ دوسرے، جب کوئی شخص اپنے شراکت داروں یا ساتھیوں کے ساتھ معاملہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ انصاف اور دیانت داری کو ہاتھ سے نہ جانے دے، کیونکہ زیادہ تر لوگ اپنے فائدے کے لیے دوسروں کا حق مارنے سے نہیں چوکتے۔ تیسرے، حضرت داؤد علیہ السلام کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بھی ہمیں اپنی کسی غلطی یا کوتاہی کا احساس ہو، تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کریں، استغفار کریں اور توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور ان کی مغفرت فرماتا ہے۔ سجدہ اللہ کے قریب ہونے کا بہترین ذریعہ ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بندہ اپنے رب کے سب سے قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں انصاف کو اپنائیں، ظلم سے بچیں، اور ہر غلطی پر فوراً اللہ سے توبہ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی اور اللہ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 22-26 — ص

22إِذْ دَخَلُوا عَلَىٰ دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَاحْكُم بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَىٰ سَوَاءِ الصِّرَاطِ
جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کا فیصلہ کر دیجیئے اور بےانصافی نہ کیجیئے گا اور ہم کو سیدھا رستہ دکھا دیجیئے
23إِنَّ هَٰذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ
(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے (ہاں) ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دُنبی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے
24قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩
انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا
25فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
تو ہم نے ان کو بخش دیا۔ اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
26يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ
اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
24آیت

ترجمہ — ص 24

سورہ ص آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے…

سورہ آیت 24/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں