ص · 26/88
ترجمہ تلفظ — سورہ ص
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ۝٢٦
Yaa Daawoodu innaa ja`alnaaka khaleefatan fil ardi fahkum bainan naasi bilhaqqi wa laa tattabi`il hawaa fayudillaka `an sabeelil laah; innal lazeena yadilloona `an sabeelil laah; lahum `azaabun shadeedum bimaa nasoo Yawmal Hisaab
📖 اردو ترجمہ
اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت نمبر 26 کا تفسیر

پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:

  • خلیفہ: جانشین، وہ شخص جسے زمین پر اختیار و اقتدار دیا جائے۔
  • بالحق: انصاف اور سچائی کے ساتھ، جو اللہ کے حکم کے مطابق ہو۔
  • ہوی: نفس کی خواہش، جھکاؤ جو حق کے خلاف ہو۔
  • سبیل اللہ: اللہ کا راستہ، جو دینِ حق اور شریعتِ الٰہیہ ہے۔
  • نسوا: بھول جانا، غفلت کرنا۔

تفسیر:

اے نبی! اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت داؤد علیہ السلام سے خطاب فرما رہے ہیں، اور یہ خطاب دراصل تمام حکمرانوں، قاضیوں اور ذمہ دارانِ امت کے لیے ایک عظیم سبق اور ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔" یعنی ہم نے تجھے اقتدار، حکومت اور فیصلہ کرنے کا اختیار عطا کیا ہے۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ اقتدار ایک امانت ہے، اور اس کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کے حکم کے مطابق چلے۔

پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے: "پس تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر۔" یعنی عدل و انصاف سے کام لے، کسی کی طرف جھکاؤ نہ کر، نہ کسی رشتہ داری کی وجہ سے، نہ دوستی کی وجہ سے، اور نہ ہی کسی دشمنی کی بنا پر۔ فیصلہ ہمیشہ حق اور سچائی پر مبنی ہو، چاہے وہ کسی کے خلاف ہی کیوں نہ جائے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک انتہائی اہم نصیحت فرماتا ہے: "اور تو ہوا (نفس کی خواہش) کی پیروی نہ کر، ورنہ یہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔" یعنی اگر انسان اپنے نفس کی خواہشات کو حاکم بنا لے، اور فیصلوں میں ذاتی مفاد، لالچ یا جذبات کو دخل دے، تو یہ چیز آہستہ آہستہ اسے حق سے دور کر دے گی، یہاں تک کہ وہ اللہ کے راستے سے بھٹک جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کر دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے انجام سے ڈراتا ہے جو اس راستے سے بھٹکتے ہیں: "بے شک جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹکتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے۔" یعنی ان کی گمراہی کی جڑ یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتے، یا اسے بھول گئے ہیں۔ اگر انہیں یاد ہوتا کہ ان کے ہر عمل کا حساب ہوگا، اور ہر ظلم و زیادتی کا بدلہ ملے گا، تو وہ کبھی ہویٰ کی پیروی نہ کرتے، نہ ظلم کرتے اور نہ حق سے منہ موڑتے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہر مسلمان کے لیے، خاص طور پر حکمرانوں، قاضیوں، اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کے لیے ایک روشن ضابطہ حیات ہے۔ اسلام وہ واحد دین ہے جو عدل و انصاف کو اتنی اہمیت دیتا ہے کہ اسے اللہ کی خلافت کا بنیادی مقصد قرار دیا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں — چاہے وہ گھر کا فیصلہ ہو، کاروبار کا معاملہ ہو، یا معاشرتی ذمہ داری — حق کو ترجیح دیں، خواہشات کو نہیں۔ یاد رکھیں! ہویٰ کی پیروی انسان کو ذلت اور عذاب کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ حق کی پیروی عزت، کامیابی اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 24-28 — سورہ ص

24قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩
انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا
25فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
تو ہم نے ان کو بخش دیا۔ اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
26يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ
اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا
27وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات ان میں ہے اس کو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا۔ یہ ان کا گمان ہے جو کافر ہیں۔ سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے
28أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے۔ کیا ان کو ہم ان کی طرح کر دیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں۔ یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کر دیں گے
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
26آیت

ترجمہ — ص 26

سورہ ص آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا…

سورہ آیت 26/88 — سورہ ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ ص سنیں, سورہ ص ترجمہ, سورہ ص mp3, سورہ ص pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, September 8, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں