Wa izaa massal insaana durrun da`aa Rabbahoo muneeban ilaihi summa izaa khawwalahoo ni`matam minhu nasiya maa kaana yad`ooo ilaihi min qablu wa ja`ala lillaahi andaadal liyudilla `ansabeelih; qul tamatta` bikufrika qaleelan innaka min Ashaabin Naar
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے۔ پھر تُو تو دوزخیوں میں ہوگا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون به آدمى گزندى برسد، به پروردگارش روى مىآورد و او را مىخواند. آنگاه چون به او نعمتى بخشد، همه آن دعاها را كه پيش از اين كرده بود از ياد مىبرد و براى خدا همتايانى قرار مىدهد تا مردم را از طريق او گمراه كنند. بگو: اندكى از كفرت بهرهمند شو، كه تو از دوزخيان خواهى بود.
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے۔ پھر تُو تو دوزخیوں میں ہوگا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مُنیبًا: رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا
خَوَّلَهُ: اسے عطا کیا، بخشا
أَندَادًا: ہمسر، شریک، برابر والے
لِیُضِلَّ: تاکہ گمراہ کرے
تَمَتَّعْ: لطف اٹھا، فائدہ اٹھا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں انسان کی کمزوری اور اس کے حالات کی تبدیلی کا نقشہ کھینچتا ہے۔ جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے—چاہے وہ بیماری ہو، مالی تنگی ہو، یا کوئی خوف اور پریشانی—تو وہ فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے، اس سے دعائیں مانگتا ہے، اور اس کی ذات کو پکارتا ہے۔ وہ اس وقت بھول جاتا ہے کہ اس نے پہلے کس کس کو معبود بنا رکھا تھا، اور خالص اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے، اس کی مصیبت دور کرتا ہے، اور اسے اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے، تو وہ انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے۔ وہ اس دعا کو بھی بھول جاتا ہے جو اس نے مصیبت کے وقت اللہ سے کی تھی، اور پھر سے اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ وہ اللہ کے لیے شریک بناتا ہے، بتوں کو پوجتا ہے، اور دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ انسان کا نہایت ناشکرا پن ہے کہ وہ اللہ کو صرف مصیبت کے وقت یاد کرتا ہے، اور نعمت ملتے ہی اسے بھلا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ایسے شخص کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے کافر! تم اپنے کفر کا کچھ دنوں تک لطف اٹھا لو، یہ مدت بہت تھوڑی ہے، تمہاری موت آ کر رہے گی، اور پھر تمہارا انجام جہنم کی آگ ہے جس میں تم ہمیشہ رہو گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اللہ کو یاد رکھنا چاہیے، صرف مصیبت کے وقت ہی نہیں بلکہ خوشحالی اور نعمت کے وقت بھی۔ ہمیں چاہیے کہ جب اللہ ہم پر نعمتیں برساتا ہے تو ہم اس کا شکر ادا کریں، اس کی عبادت کریں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ یاد رکھیں! یہ دنیا کی زندگی بہت تھوڑی ہے، اور آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے۔ جو شخص اللہ کو بھول کر صرف دنیا کی خوشیوں میں مشغول رہتا ہے، وہ آخرت میں پچھتائے گا، لیکن پچھتانے کا وقت تب نہیں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بندہ بنائے اور شرک سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چار پایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے۔ وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں (پہلے) ایک طرح پھر دوسری طرح تین اندھیروں میں بناتا ہے۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟
اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپروا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا۔ وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے۔ پھر تُو تو دوزخیوں میں ہوگا
(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں
کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے۔ اور خدا کی زمین کشادہ ہے۔ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بےشمار ثواب ملے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔