زمر · 9/75
ترجمہ تلفظ — زمر
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ ۝٩
Amman huwa qaanitun aanaaa`al laili saajidanw wa qaaa`imai yahzarul Aakhirata wa yarjoo rahmata Rabbih; qul hal yastawil lazeena ya`lamoona wallazeena laa ya`lamoon; innamaa yatazakkaru ulul albaab
📖 اردو ترجمہ
(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قانت: اطاعت گزار، فرمانبردار، عبادت میں مصروف رہنے والا۔
  • آناء اللیل: رات کے ساعات، رات کی گھڑیاں۔
  • یحذر: ڈرتا ہے، خوف کھاتا ہے۔
  • یرجو: امید رکھتا ہے، توقع کرتا ہے۔
  • أولو الألباب: عقل والے، سمجھ دار لوگ، خالص عقل رکھنے والے۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ایک زبردست سوال کے ذریعے حق و باطل کا موازنہ کراتے ہیں۔ فرماتے ہیں: کیا وہ شخص جو رات کے مختلف اوقات میں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے، سجدے میں جھکتا ہے، اپنے رب کے حضور مطیع و فرمانبردار رہتا ہے، وہ اس کافر کے برابر ہو سکتا ہے جو اپنی خواہشات اور کفر پر مطمئن ہے؟ ہرگز نہیں! یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔

مومن کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رات کے لمبے حصے کو عبادت میں گزارتا ہے، کبھی سجدے میں اور کبھی قیام میں، اس کا دل آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے اور ساتھ ہی اپنے رب کی رحمت سے امید وابستہ رکھتا ہے۔ یہ خوف اور امید دونوں اسے عبادت پر ابھارتے ہیں۔ وہ نہ مایوس ہوتا ہے نہ غافل، بلکہ ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ ان سے پوچھیں: کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے، دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! علم والے دل کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، حق کو پہچانتے ہیں، اپنے رب کو جانتے ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ جبکہ جاہل اندھیرے میں بھٹکتا ہے، حق و باطل میں تمیز نہیں کر پاتا۔

آخر میں فرمایا کہ اس حقیقت کو صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں جو عقل سلیم رکھتے ہیں، جن کے دل کھلے ہوئے ہیں اور جو اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ علم اور عمل دونوں مومن کی پہچان ہیں۔ رات کی تنہائی میں اللہ سے مناجات کرنا، سجدوں میں آنسو بہانا، یہ وہ اعمال ہیں جو انسان کو بلندیوں تک پہنچاتے ہیں۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں علم کی بہت اہمیت ہے، لیکن علم صرف دنیاوی نہیں بلکہ دینی علم بھی ضروری ہے۔ جو شخص اپنے رب کو جانتا ہے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو علم کے نور سے روشن کریں، راتوں کو عبادت سے آباد کریں، تاکہ ہم ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جنہیں اللہ نے "أولو الألباب" یعنی عقل والے کہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا اور آخرت کے درمیان فرق کو سمجھتے ہیں اور اپنی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ اللہ ہمیں انہیں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 7-11 — زمر

7إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپروا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا۔ وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے
8۞ وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے۔ پھر تُو تو دوزخیوں میں ہوگا
9أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں
10قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ
کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے۔ اور خدا کی زمین کشادہ ہے۔ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بےشمار ثواب ملے گا
11قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ
کہہ دو کہ مجھ سے ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت کو خالص کرکے اس کی بندگی کروں
زمرقرآن فہرست
75آیت
مکیRevelation
9آیت

ترجمہ — زمر 9

سورہ زمر آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں…

سورہ آیت 9/75 — زمر الزمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زمر سنیں, زمر ترجمہ, زمر mp3, زمر pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں