Taraz zaalimeena mushfiqeena mimmaa kasaboo wa huwa waaqi`um bihim; wallazeena aamanoo wa `amilus saalihaati fee rawdaatil jannaati lahum maa yashaaa`oona `inda Rabbihim; zaalika huwal fadlul kabeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
ستمكاران را بينى كه از حاصل اعمالشان بيمناكند. و البته به كيفر خود خواهند رسيد. ولى آنها كه ايمان آوردهاند و كارهاى شايسته كردهاند، در باغهاى بهشتند. هر چه بخواهند نزد پروردگارشان هست. و اين فضل و بخشايش بزرگى است.
مِمَّا کَسَبُوا: اپنے کیے ہوئے اعمال (گناہوں) کے سبب
وَاقِعٌ بِهِمْ: ان پر نازل ہونے والا، لازم آنے والا
رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ: جنت کے باغات، سرسبز و شاداب باغیچے
الْفَضْلُ الْکَبِیرُ: بہت بڑا فضل و انعام
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! آپ قیامت کے دن ظالموں (یعنی مشرکوں اور گنہگاروں) کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے برے اعمال کے سبب شدید خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا ہیں، کیونکہ انہوں نے دنیا میں جو کچھ کمایا تھا، اس کا وبال ان پر پڑ کر رہے گا۔ ان کا یہ خوف محض خوف ہی ہوگا، کوئی توبہ یا نجات کا راستہ انہیں نہ ملے گا، اور عذاب ان پر یقیناً نازل ہوگا، چاہے وہ ڈریں یا نہ ڈریں۔
اس کے برعکس، جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، ان کا انجام کتنا حسین ہے! وہ جنت کے سرسبز و شاداب باغات میں ہوں گے، جہاں ہر طرف رونق، خوشبو اور سکون ہوگا۔ ان کے رب کے پاس ان کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہیں گے، کوئی خواہش ادھوری نہ رہے گی، کوئی آرزو بے سود نہ ہوگی۔ یہی عظیم فضل ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کیا ہے، اور اس فضل کے سامنے دنیا کی تمام نعمتیں حقیر اور بے وقعت ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا ان دو مناظر کا تصور کریں: ایک طرف ظالم اور گنہگار افراد کھڑے ہیں، جن کے چہروں پر خوف اور وحشت چھائی ہوئی ہے، ان کے اعمال ان کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اب کوئی بچاؤ نہیں۔ دوسری طرف مومن و صالح لوگ ہیں، جو جنت کے باغات میں ہیں، ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں، ان کی ہر خواہش پوری ہو رہی ہے۔ یہ فرق صرف ایمان اور عمل صالح کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں موقع دیا ہے کہ ہم اپنا انجام خود منتخب کریں۔ آج اگر ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں، اپنے اعمال سنوار لیں، تو کل ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہوں گے جن کے لیے رب نے یہ عظیم فضل تیار کیا ہے۔ اللہ کے فضل کی کوئی حد نہیں، اس کی رحمت سب کچھ محیط ہے، بس ہمیں اس کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔
تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے
جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دیں گے۔ اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے۔ اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے
یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔ کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیئے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے۔ بےشک خدا بخشنے والا قدردان ہے
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمدﷺ) تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ اور خدا جھوٹ کو نابود کرتا اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے۔ بےشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔