Am lahum shurakaaa`u shara`oo lahum minad deeni maa lam yaazam bihil laah; wa law laa kalimatul fasli laqudiya bainahum; wa innaz zaalimeena lahum `azaabun aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا مشركان را بتانى است كه آيينى برايشان آوردهاند كه خدا رخصت آن را نداده است؟ و اگر قصد تاخير عذابشان نبود، كارشان به پايان آمده بود و ستمكاران را عذابى است دردآور.
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
شُرَكَاءُ: وہ معبود جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گئے۔
شَرَعُوا: قانون بنایا، راستہ نکالا۔
کَلِمَةُ الْفَصْلِ: فیصلہ کا وعدہ، یعنی قیامت کا دن یا اللہ کا پہلے سے طے شدہ حکم۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مشرکین سے استفہامیہ انداز میں پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان کے کچھ ایسے شریک (معبود) ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں ایسے احکام مقرر کیے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟ یعنی انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنایا، اور اپنی من مانی عبادتیں ایجاد کیں۔ یہ سب کچھ اللہ کی مرضی کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ کبھی باطل اور شرک کی اجازت نہیں دے سکتا۔
پھر فرمایا کہ اگر اللہ کا پہلے سے طے شدہ فیصلہ نہ ہوتا کہ عذاب ایک مقررہ وقت (قیامت) تک مؤخر ہے، تو ان مشرکوں اور مومنین کے درمیان دنیا ہی میں فیصلہ کر دیا جاتا اور عذاب فوراً نازل ہو جاتا۔ لیکن اللہ نے اپنی حکمت سے انہیں مہلت دی ہے۔
آخر میں فرمایا کہ ظالموں (یعنی مشرکوں اور گناہگاروں) کے لیے قیامت کے دن دردناک عذاب تیار ہے، جو ان کے شرک اور نافرمانیوں کی سزا ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین کا اختیار صرف اللہ کو ہے، کسی انسان یا معبود کو یہ حق نہیں کہ وہ اللہ کی شریعت میں اپنی طرف سے اضافہ یا کمی کرے۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنی خواہشات، روایات یا بزرگوں کی باتوں کو دین کا حصہ بنا لیتے ہیں، حالانکہ اللہ نے ان کی اجازت نہیں دی۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دین کو صرف قرآن و سنت سے لیں اور کسی بھی بدعت یا شرک سے بچیں۔ اللہ نے مہلت دی ہے، لیکن یاد رکھیں کہ یہ مہلت ہمیشہ کے لیے نہیں، آخرت میں ہر ظالم کو اس کے ظلم کا پورا بدلہ ملے گا۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو خالص کریں اور صرف اللہ کی عبادت کریں، کیونکہ یہی نجات کا راستہ ہے۔
جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دیں گے۔ اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے۔ اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے
یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔ کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیئے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے۔ بےشک خدا بخشنے والا قدردان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔