شوری · 52/53
ترجمہ تلفظ — شوری
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝٥٢
Wa kazaalika awhainaaa ilaika rooham min amrinaa; maa kunta tadree mal Kitaabu wa lal eemaanu wa laakin ja`alnaahu nooran nahdee bihee man nashaaa`u min `ibaadinaa; wa innaka latahdeee ilaaa Siraatim Mustaqeem
📖 اردو ترجمہ
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے (قرآن) بھیجا ہے۔ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو۔ لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ اور بےشک (اے محمدﷺ) تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت کا ترجمہ:

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے ایک روح (قرآن) کی وحی بھیجی۔ آپ کو پہلے یہ معلوم نہ تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔ اور یقیناً آپ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

اہم الفاظ کے معانی:

  • رُوحًا: یہاں روح سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ جس طرح روح سے جسم میں زندگی آتی ہے، اسی طرح قرآن سے دلوں میں ایمان کی زندگی آتی ہے۔
  • مِنْ أَمْرِنَا: ہمارے حکم سے، یعنی یہ وحی اللہ کے خاص حکم اور قدرت سے نازل ہوئی ہے۔
  • مَا كُنتَ تَدْرِي: آپ کو علم نہ تھا، یعنی وحی سے پہلے آپ کو ان چیزوں کا علم نہ تھا۔
  • نُورًا: روشنی، یعنی قرآن ہدایت کی روشنی ہے۔
  • صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ: سیدھا راستہ، یعنی اسلام۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا عظیم فضل و کرم بیان فرماتا ہے کہ جس طرح ہم نے پہلے انبیاء علیہم السلام پر وحی بھیجی، اسی طرح ہم نے آپ پر بھی اپنے حکم سے قرآن نازل کیا۔ اس قرآن کو "روح" سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ جس طرح روح کے بغیر جسم مردہ ہوتا ہے، اسی طرح قرآن کے بغیر دل مردہ ہیں۔ یہ قرآن وہ روحانی زندگی ہے جو دلوں کو زندہ کرتی ہے، جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لے آتی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ کو نہ تو کتاب کا علم تھا اور نہ ہی ایمان کی حقیقت کا مکمل ادراک تھا، کیونکہ آپ امی تھے، نہ پڑھ سکتے تھے نہ لکھ سکتے تھے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن آپ کی اپنی ایجاد نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے۔ پھر اللہ نے اس قرآن کو نور بنایا، یعنی ہدایت کی روشنی، جس سے وہ لوگ مستفید ہوتے ہیں جنہیں اللہ چاہتا ہے۔ یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور اسے سیدھے راستے کی توفیق دیتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل کام لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف بلانا ہے، جو کہ دین اسلام ہے۔ یہ راستہ بالکل سیدھا ہے، نہ اس میں کوئی کجی ہے اور نہ ہی کوئی پیچیدگی۔ یہ وہ راستہ ہے جو اللہ کی رضا تک پہنچاتا ہے اور جنت کی طرف لے جاتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری اور نصیحت ہے۔ اللہ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے، جو ہمارے دلوں کی زندگی ہے۔ اگر ہم اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو یہ ہمارے لیے دنیا اور آخرت میں روشنی بن جائے گا۔ قرآن وہ نور ہے جو ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لے آتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اس نور سے فائدہ اٹھائیں، اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور اس کے ذریعے اپنے دلوں کو منور کریں۔ جو شخص قرآن سے جڑ جاتا ہے، اس کی زندگی بدل جاتی ہے، اسے سکون ملتا ہے اور اسے سیدھے راستے کی ہدایت ملتی ہے۔ آئیے! ہم سب اس نور سے روشنی حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو کامیاب بنائیں۔ اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 50-53 — شوری

50أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ
یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
51۞ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ
اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے۔ بےشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے
52وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے (قرآن) بھیجا ہے۔ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو۔ لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ اور بےشک (اے محمدﷺ) تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو
53صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ
(یعنی) خدا کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)
شوریقرآن فہرست
53آیت
مکیRevelation
52آیت

ترجمہ — شوری 52

سورہ شوری آیت 52 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف…

سورہ آیت 52/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 50–53. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں