شوری · 51/53
ترجمہ تلفظ — شوری
۞ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ۝٥١
Wa maa kaana libasharin any yukallimahul laahu illaa wahyan aw minw waraaa`i hijaabin aw yursila Rasoolan fa yoohiya bi iznuhee maa yashaaa`; innahoo `Aliyyun Hakeem
📖 اردو ترجمہ
اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے۔ بےشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَحْیًا: الہام یا دل میں ڈالنا، جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے دلوں میں صحیح بات ڈالتا ہے۔
  • مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ: پردے کے پیچھے سے، یعنی بغیر دیکھے کلام سننا۔
  • رَسُولًا: فرشتہ (جیسے جبرائیل علیہ السلام
  • فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ: اللہ کے حکم سے وحی پہنچانا۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان کلام کے طریقوں کو بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور حکمت سے یہ طے فرمایا ہے کہ کوئی بشر (انسان) اس سے براہِ راست کلام نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اس سے بالا تر ہے کہ کوئی مخلوق اسے دیکھ کر یا سامنے آ کر گفتگو کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء سے کلام کرنے کے تین طریقے مقرر فرمائے ہیں:

پہلا طریقہ: وحی — یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے دل میں الہام ڈالتا ہے، یا خواب کے ذریعے وحی فرماتا ہے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذبح کے بارے میں خواب میں حکم دیا گیا۔ یہ وحی بغیر کسی واسطے کے ہوتی ہے، لیکن نبی اسے محسوس کرتا ہے۔

دوسرا طریقہ: پردے کے پیچھے سے کلام — جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کوہِ طور پر پردے کے پیچھے سے آواز دی، وہ آواز سنتے تھے مگر اللہ کو نہیں دیکھتے تھے۔ یہ بھی اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں سے اس طرح ہم کلام ہوتا ہے۔

تیسرا طریقہ: فرشتے کا بھیجنا — جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر وحی پہنچانا، جو رسولوں پر اللہ کا پیغام لاتے ہیں۔ یہ طریقہ زیادہ تر انبیاء کے ساتھ رہا ہے، اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اسی طریقے سے نازل ہوا۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ "علیّ" (بلند و بالا) ہے — اس کی ذات، اس کے نام، اس کی صفات اور اس کے افعال سب اعلیٰ اور برتر ہیں، کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔ اور وہ "حکیم" ہے — اپنی مخلوق کی تدبیر میں کامل حکمت والا ہے، جو کچھ کرتا ہے حکمت سے کرتا ہے، جو حکم دیتا ہے حکمت سے دیتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر بلند اور برتر ہے، پھر بھی وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی ہدایت کے لیے اپنا کلام بھیجتا ہے۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب عطا کی، جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کلامِ الٰہی کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو ہم تک پہنچانے کے لیے جتنے ذرائع استعمال کیے، وہ سب اس کی محبت اور رحمت کا ثبوت ہیں۔ آئیے ہم اس نعمت کی قدر کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کی روشنی میں ڈھالیں۔



📜 آیت 49-53 — شوری

49لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ
(تمام) بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے
50أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ
یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
51۞ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ
اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے۔ بےشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے
52وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے (قرآن) بھیجا ہے۔ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو۔ لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ اور بےشک (اے محمدﷺ) تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو
53صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ
(یعنی) خدا کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)
شوریقرآن فہرست
53آیت
مکیRevelation
51آیت

ترجمہ — شوری 51

سورہ شوری آیت 51 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس…

سورہ آیت 51/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 49–53. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں