ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُفٍّ لَّكُمَا: تم پر تم، افسوس ہے تم پر۔ یہ ناپسندیدگی اور کراہت کا کلمہ ہے۔
- أَتَعِدَانِنِي: کیا تم مجھے وعدہ دیتے ہو۔
- أَنْ أُخْرَجَ: کہ میں (قبر سے) نکالا جاؤں گا۔
- خَلَتِ الْقُرُونُ: بہت سی قومیں گزر چکی ہیں۔
- يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ: دونوں والدین اللہ سے فریاد کر رہے ہیں۔
- وَيْلَكَ: تیرے لیے ہلاکت ہے۔
- أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ: پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیاں اور جھوٹی باتیں۔
تفسیر:
یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اپنے والدین کی نصیحت اور دعوتِ ایمان پر نہ صرف یہ کہ لبیک نہیں کہتا بلکہ انتہائی بے ادبی اور بدکلامی سے جواب دیتا ہے۔ جب اس کے والدین اسے اللہ پر ایمان لانے اور آخرت کے دن پر یقین کرنے کی تلقین کرتے ہیں، تو وہ انہیں جھڑکتے ہوئے کہتا ہے: "تف ہے تم پر! کیا تم مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں اور وہ سب مر گئیں، ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا۔ یہ کیسے ممکن ہے؟"
یہ سن کر اس کے والدین دل ٹوٹے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں اور اپنے بیٹے کی ہدایت کے لیے دعا کرتے ہیں۔ وہ اس سے محبت کے ساتھ کہتے ہیں: "ہلاکت ہے تجھ پر! ایمان لے آ، اللہ کا وعدہ بالکل سچا ہے، قیامت ضرور آنی ہے اور تجھے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔" لیکن وہ سرکش اور ضدی شخص اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے اور جواب میں کہتا ہے: "یہ سب کچھ نہیں ہے مگر پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیاں اور افسانے ہیں جو انہوں نے اپنی کتابوں میں نقل کر رکھے ہیں۔"
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، والدین کا مقام کتنا بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کافر ہوں تو بھی ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن اس آیت میں جس شخص کا ذکر ہے، وہ اپنے والدین کو "أُفٍّ" کہہ رہا ہے — یہاں تک کہ اتنے چھوٹے کلمے کی بھی ممانعت قرآن میں آئی ہے۔ والدین جو اپنی اولاد کی بھلائی چاہتے ہیں، وہ اپنے بچے کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن وہ ان کی محبت کو ٹھکرا رہا ہے۔
دوسری طرف والدین کا کردار بھی مثالی ہے — وہ اپنے نافرمان بیٹے کے لیے اللہ سے فریاد کر رہے ہیں، اس پر لعنت نہیں کر رہے بلکہ ہدایت کی دعا مانگ رہے ہیں۔ یہ والدین کا بے مثال شفقت بھرا رویہ ہے۔
اور قیامت کا انکار — کیا عقل مند انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ جس اللہ نے پہلی بار پیدا کیا، وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ یہ تو محض ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ مومن وہ ہے جو اللہ کے وعدے پر یقین رکھے اور اپنے والدین کی نصیحت کو کان لگا کر سنے، کیونکہ والدین کی دعا اولاد کے حق میں بہت جلد قبول ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے والدین کی اطاعت اور ان کی محبت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 15-19 — احقاف
ترجمہ — احقاف 17
سورہ احقاف آیت 17 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ…سورہ آیت 17/35 — احقاف الأحقاف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احقاف سنیں, احقاف ترجمہ, احقاف mp3, احقاف pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








