حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ: یعنی ان پر عذاب کا وعدہ ثابت ہو گیا، اللہ کا فیصلہ ان کے حق میں نافذ ہو گیا۔
خَلَتْ: گزر گئیں، پہلے گزر چکی ہیں۔
خَاسِرِينَ: نقصان اٹھانے والے، گھاٹے میں رہنے والے۔
تفسیر:
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا عذاب ثابت ہو چکا ہے، اور وہ ان امتوں کے ساتھ مل گئے ہیں جو ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے کفر و تکذیب پر گزر چکی ہیں۔ یہ سب کے سب خسارے میں رہے، کیونکہ انہوں نے ہدایت کو گمراہی سے بدل لیا، اور نعمت کے بدلے عذاب خرید لیا۔ انہوں نے اپنے نفسوں کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا، کیونکہ وہ جہنم میں داخل ہونے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو سن کر اسے قبول نہ کیا، اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ کے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کا فیصلہ عدل پر مبنی ہے، اور جو لوگ حق کو ٹھکرا کر باطل پر قائم رہتے ہیں، وہ آخرت میں سخت نقصان اٹھائیں گے۔ لیکن اللہ نے اپنی رحمت سے ہر انسان کو موقع دیا ہے کہ وہ توبہ کر کے اپنی زندگی بدل لے۔ آج بھی جو شخص اپنے گناہوں سے باز آ کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ اسے معاف فرما دیتا ہے اور اسے خسارے سے نجات دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی اطاعت میں گزاریں تاکہ ہم ان خاسرین میں شامل نہ ہوں، بلکہ کامیاب لوگوں میں سے ہوں۔ یاد رکھیں، دنیا کی یہ زندگی بہت مختصر ہے، اور آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔
یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) ۔ (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے
اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اُف اُف! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤں گا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کم بخت ایمان لا۔ خدا کا وعدہ تو سچا ہے۔ تو کہنے لگا یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔