Wa minhum mai yastami` ilaika hattaaa izaa kharajoo min `indika qaaloo lillazeena ootul `ilma maazaa qaala aanifaa; ulaaa`ikal lazeena taba`al laahu `alaa quloobihim wattaba`ooo ahwaaa`ahum
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بعضى به تو گوش مىدهند، تا آنگاه كه از نزد تو بيرون روند از دانشمندان مىپرسند: اين چه سخنانى بود كه مىگفت؟ خدا بر دلهايشان مهر نهاده است و از پى هواهاى خود رفتهاند.
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آنِفًا: ابھی ابھی، اس وقت، قریب ہی میں۔
طَبَعَ اللہُ عَلَىٰ قُلُوبِہِم: اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، یعنی ان کے دلوں پر ایسا قفل لگا دیا کہ حق ان میں داخل نہیں ہو سکتا۔
اہوَاءَہُم: اپنی خواہشاتِ نفسانی، اپنی مرضی اور ضد۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ منافقوں کے ایک اور قبیح کردار سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حضورِ اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کی باتیں سنتے ہیں، لیکن ان کے کانوں میں نہیں اترتیں، کیونکہ ان کا مقصد سمجھنا نہیں ہوتا، بلکہ محض رسمی طور پر مجلس میں بیٹھ جانا ہوتا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر نکلتے ہیں تو صحابۂ کرام میں سے جن لوگوں کو اللہ نے علم و فہم عطا کیا تھا، ان سے پوچھتے ہیں: "ابھی ابھی محمد (ﷺ) نے کیا کہا تھا؟" یہ سوال وہ استہزاء اور مذاق کے طور پر کرتے ہیں، نہ کہ سیکھنے اور سمجھنے کی نیت سے۔ وہ اس قدر غافل اور بے پروا ہوتے ہیں کہ خود سن کر بھی کچھ نہیں سمجھتے، اور دوسروں سے پوچھتے پھرتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل بتاتا ہے کہ ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے، یعنی ان کی اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور کفر پر اصرار کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں کو بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے حق کی روشنی ان کے دلوں میں داخل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اپنی خواہشاتِ نفسانی کو اپنا امام بنا لیا ہے، اور اپنی عقل و فہم کو اپنی خواہشوں کے تابع کر دیا ہے۔ جب انسان اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لے اور حق کو ٹھکرا دے تو اللہ اسے ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ علم اور وعظ کا فائدہ صرف اسی کو ملتا ہے جو سچے دل سے سنے، سمجھے اور عمل کرے۔ ہمیں چاہیے کہ جب بھی قرآن و سنت کی کوئی بات سنیں تو اسے غور سے سنیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ کی دولت دی ہے، اس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ ہم حق کو قبول کریں اور اپنی خواہشات کو حق پر قربان کریں، نہ کہ حق کو اپنی خواہشات پر قربان کریں۔ یاد رکھیں! جو لوگ علم کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے، ان کا حال اس منافق جیسا ہو جاتا ہے جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے۔ اللہ ہمیں سچے دل سے سننے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں
اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھ رہے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو۔ سو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں۔ پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہوسکے گی؟)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔