ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- دافع: ٹالنے والا، روکنے والا، دفاع کرنے والا۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ عذابِ الٰہی جو کافروں کے لیے مقدر کیا گیا ہے، اسے کوئی ٹالنے والا نہیں، کوئی روکنے والا نہیں، اور نہ ہی کوئی ایسی طاقت ہے جو اسے واپس لوٹا سکے۔ یہ عذاب اس وقت نازل ہوگا جب اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا، اور اس دن کوئی شخص، کوئی قوت، کوئی طاقت، کوئی بت، کوئی معبودِ باطل اسے دفع نہیں کر سکے گا۔
یہ عذاب قیامت کے دن واقع ہوگا جب آسمان شدت سے ہلے گا، اس کا نظام درہم برہم ہو جائے گا، پہاڑ اپنی جگہوں سے اکھڑ کر ریت کی طرح اڑتے پھریں گے، اور ساری کائنات اپنے خالقِ حقیقی کے سامنے سرنگوں ہو جائے گی۔ اس دن کسی ظالم کا کوئی مددگار نہ ہوگا، کوئی سفارشی کام نہ آئے گا، اور نہ ہی کوئی عذاب کو ٹالنے کی جرات کر سکے گا۔
پیارے بندو! یہ آیت ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کے عذاب کی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرما لیتا ہے، تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات مل کر بھی اسے روکنے پر قادر نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اس کی نافرمانی سے بچیں، اور اپنی زندگیوں کو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلائیں۔
یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے، لیکن جب اس کا عذاب آ جائے تو پھر کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی۔ آئیں ہم سب اپنے رب کی اطاعت کریں، اس کی رحمت کے طلبگار بنیں، اور اس عذاب سے پناہ مانگیں جو ناقابلِ دفع ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 6-10 — طور
ترجمہ — طور 8
سورہ طور آیت 8 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور) اس کو کوئی روک نہیں سکے گاسورہ آیت 8/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








