ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سِدْر: بیری کا درخت (نبق کا درخت)۔
- مَخْضُود: جس کے کانٹے توڑ دیے گئے ہوں، بے کانٹا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہلِ یمین (دائیں ہاتھ والوں) کی نعمتوں کا ذکر فرما رہے ہیں۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں قیامت کے دن نیکیوں کی وجہ سے جنت کی اعلیٰ نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بیری کے ایسے درختوں کے درمیان ہوں گے جن میں کوئی کانٹا نہیں ہوگا۔
دنیا میں بیری کا درخت کانٹوں والا ہوتا ہے، جس سے چھونے والے کو تکلیف پہنچتی ہے، لیکن جنت کا بیری کا درخت اس سے بالکل مختلف ہوگا — اس میں کوئی کانٹا نہیں ہوگا، نہ کوئی تکلیف دینے والی چیز ہوگی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جنت کی ہر چیز ہر قسم کے نقص اور تکلیف سے پاک ہوگی۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے اہلِ یمین کی نعمتوں کا ذکر اس انداز میں کیا ہے کہ ان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ ہر قسم کے خوف، غم اور مشقت سے محفوظ رہیں گے۔ جنت کا ماحول اتنا پرسکون اور خوشگوار ہوگا کہ دنیا کی کوئی بھی تکلیف دہ چیز وہاں نہیں ہوگی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے لیے کتنی عظیم نعمتیں تیار کر کے رکھی ہیں۔ جب ہم جنت کی ان نعمتوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے دل میں اللہ کی محبت اور اس کی رحمت کی امید بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں نیکیوں کو اپنائیں، اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اپنے اعمال کو صالح بنائیں تاکہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جن کے لیے یہ نعمتیں تیار کی گئی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب دی ہے جو ہمیں جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ آئیے ہم اس راستے پر چلیں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اہلِ یمین میں شامل فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 26-30 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 28
سورہ واقعہ آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) بےخار کی بیریوںسورہ آیت 28/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








