ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- افترى: جھوٹ گھڑنا، بہتان باندھنا۔
- یُدعیٰ: بلایا جاتا ہے، دعوت دی جاتی ہے۔
- الظالمین: وہ لوگ جو کفر و شرک کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے جو اپنے رب کے بارے میں جھوٹ گھڑتے ہیں، اس کے لیے شریک اور اولاد ثابت کرتے ہیں، اور اس کی عبادت میں دوسروں کو شامل کرتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا ظلم ہے، کیونکہ وہ اس ذات کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں جو کائنات کی خالق اور مالک ہے۔
مزید برآں، یہ ظلم اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب وہ شخص اسلام کی دعوت دیے جانے کے باوجود حق سے منہ موڑتا ہے۔ وہ اسے بلایا جا رہا ہے کہ وہ توحید خالص اختیار کرے، صرف ایک اللہ کی عبادت کرے، اور اپنے خالق کے سامنے سر تسلیم خم کرے، لیکن وہ اس دعوت کو ٹھکرا کر باطل پر قائم رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا، یعنی انہیں توفیق نہیں دیتا کہ وہ اپنی فلاح اور کامیابی کا راستہ پا سکیں، کیونکہ انہوں نے خود باطل کو حق پر ترجیح دی اور اپنے لیے گمراہی کو پسند کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے بندوں کو بار بار دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور سیدھے راستے پر چلیں۔ لیکن جو شخص حق واضح ہونے کے بعد بھی اسے رد کر دے، وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے اور اللہ کی ہدایت سے محروم رہتا ہے۔
آئیے ہم اس نعمت کی قدر کریں کہ اللہ نے ہمیں اسلام کی دعوت دی اور ہمیں مسلمان بنایا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، توحید کو اپنے دلوں میں پختہ کریں، اور کسی بھی قسم کے شرک اور بدعت سے بچیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، وہ انہیں ہدایت دیتا ہے اور ان کے قدم جما دیتا ہے۔ ہم دعا کریں کہ اللہ ہمیں ثابت قدم رکھے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو حق کو قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔
📜 آیت 5-9 — صف
ترجمہ — صف 7
سورہ آیت 7/14 — صف الصف (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صف سنیں, صف ترجمہ, صف mp3, صف pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








