Ywma yajma`ukum li yawmil jam`i zaalika yawmut taghaabun; wa many-yumim billaahi wa ya`mal saalihany yukaffir `anhu sayyi aatihee wa yudkhilhu jannaatin tajree min tahtihal anhaaru khaalideena feehaaa abadaa; zaalikal fawzul `azeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
روزى كه همه شما را در محشر گرد آورد، آن روز روز مغبونى است. و هر كه به خدا ايمان بياورد و كار شايسته كند، گناهانش را مىريزد و به بهشتهايى كه در آن نهرها جارى است داخل كند. آنجا جاودانه خواهند بود. اين كاميابى بزرگى است.
جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَوْمَ الْجَمْعِ: قیامت کا دن، جس دن تمام مخلوقات کو جمع کیا جائے گا۔
التَّغَابُنِ: نقصان اور خسارہ ظاہر ہونے کا دن، جب ایک دوسرے کو دھوکے میں مبتلا پایا جائے گا۔
يُكَفِّرْ: معاف کر دے گا، مٹا دے گا۔
الْفَوْزُ الْعَظِيمُ: بہت بڑی کامیابی اور عظیم مراد۔
تفسیر:
اے نبی! آپ اپنی امت کو اس دن کی یاد دلائیں جب اللہ تعالیٰ تمام پہلے اور پچھلے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرے گا، یہ قیامت کا دن ہے جسے "یوم الجمع" کہا گیا ہے کیونکہ اس دن تمام مخلوقات کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے گا۔ یہی وہ دن ہے جسے "یوم التغابن" کہا جاتا ہے، یعنی نقصان اور خسارہ ظاہر ہونے کا دن۔ اس دن اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان واضح فرق سامنے آئے گا۔ مومن اپنے ایمان اور نیک اعمال کی برکت سے جنت میں داخل ہوں گے، جبکہ کافر اور گنہگار اپنے کفر اور نافرمانی کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ یہی وہ عظیم نقصان ہے جو کافروں کو ہوگا، کیونکہ وہ اپنی عقل و سمجھ کو کھو بیٹھے تھے اور ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کر کے خود کو دھوکے میں ڈالے تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک اعمال کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، کبھی انہیں وہاں سے نکالا نہیں جائے گا اور نہ ہی ان کی نعمتیں ختم ہوں گی۔ یہی وہ عظیم کامیابی ہے جس کے بعد کوئی ناکامی نہیں، اور یہی وہ کامیابی ہے جو ہر مسلمان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں دو اہم باتیں سکھاتی ہے۔ پہلی یہ کہ ہمیں قیامت کے دن پر یقین رکھنا چاہیے اور اس کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہم ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں۔ اگر ہم ایمان اور عمل صالح کو اپنا لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو مٹا کر ہمیں جنت کی نعمتوں سے نوازے گا۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے، آئیے ہم اس فضل سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگیوں کو ایمان اور نیک اعمال سے روشن کریں تاکہ ہم اس عظیم کامیابی کو حاصل کر سکیں۔
جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے
جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔