Fakhalafa mim ba`dihim khalfunw warisul Kitaaba yaa khuzoona `arada haazal adnaa wa yaqooloona sayughfaru lanaa wa iny yaatihim `aradum misluhoo yaakhuzooh; alam yu`khaz `alaihim `aradum misluhoo yaakhuzooh; alam yu`khaz `alaihim meesaaqul Kitaabi al laa yaqooloo `alal laahi illal haqqa wa darasoo maa feeh; wad Daarul Aakhirtu khairul lillazeena yattaqoon; afalaa ta`qiloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بعد از اينان گروهى به جايشان نشستند و وارث آن كتاب شدند كه به متاع دنيوى دل بستند و گفتند كه به زودى آمرزيده مىشويم. و اگر همانند آن باز هم متاعى بيابند برگيرند. آيا از ايشان پيمان نگرفتهاند كه درباره خدا جز به راستى سخن نگويند، حال آنكه آنچه در آن كتاب آمده بود خوانده بودند؟ سراى آخرت براى كسانى كه مىپرهيزند بهتر است. آيا تعقل نمىكنيد؟
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
خَلَفٌ: بری نسل (یہاں برے لوگ مراد ہیں جو پہلے لوگوں کے بعد آئے)
عَرَضَ: دنیا کا عارضی مال و متاع، فائدہ
هَذَا الْأَدْنَى: یہ حقیر اور ادنیٰ دنیاوی مال
مِيثَاقُ الْكِتَابِ: کتاب (تورات) میں اللہ کا عہد و پیمان
دَرَسُوا: انہوں نے پڑھا اور سیکھا
تفسیر:
پھر ان پچھلے نیک لوگوں کے بعد ایسے لوگ آئے جو ان کے حقیقی جانشین نہیں تھے، بلکہ ناخلف تھے۔ انہوں نے کتابِ الٰہی (تورات) کو وراثت میں تو لیا، اسے پڑھا بھی، لیکن اس پر عمل نہیں کیا۔ یہ لوگ دنیا کے حقیر اور ادنیٰ مال و متاع کو لے لیتے تھے، رشوت کھاتے تھے، اور اللہ کے کلام کو اپنی دنیاوی خواہشات کے مطابق تبدیل کرتے تھے۔ اور ساتھ ہی یہ کہتے تھے کہ "ہمیں ضرور بخش دیا جائے گا" – یہ محض جھوٹی امیدیں اور اللہ پر بہتان تھا۔ اور اگر ان کے پاس ایسا ہی کوئی اور دنیاوی مال آتا تو وہ اسے بھی لے لیتے، یعنی وہ اپنے گناہوں پر اصرار کرتے تھے اور توبہ نہیں کرتے تھے۔
کیا ان سے کتاب (تورات) کا عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہیں؟ انہوں نے کتاب کو پڑھا اور سیکھا تھا، وہ جانتے تھے کہ اللہ کی بخشش صرف توبہ کرنے والوں کے لیے ہے، نہ کہ گناہ پر اصرار کرنے والوں کے لیے۔ پھر بھی انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور اللہ سے جھوٹے وعدے اور جھوٹی امیدیں وابستہ کر لیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آخرت کا گھر اور وہاں کی دائمی نعمتیں ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، یعنی اللہ کے حکموں کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچتے ہیں۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ دنیا کا عارضی مال و متاع کبھی بھی آخرت کی دائمی نعمتوں کے برابر نہیں ہو سکتا؟
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بہت بڑا سبق دے رہے ہیں۔ وہ یہ کہ کتابِ الٰہی کو پڑھنا اور حفظ کرنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کو صرف پڑھیں نہیں، بلکہ اس پر عمل کریں۔ دنیا کی چمک دمک اور عارضی مال و متاع کو کبھی بھی آخرت کی دائمی نعمتوں پر ترجیح نہ دیں۔ اللہ سے جھوٹی امیدیں وابستہ کرنا اور گناہوں پر اصرار کرتے ہوئے بخشش کی امید رکھنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اللہ کی بخشش حاصل کرنے کے لیے سچی توبہ ضروری ہے۔ آئیے ہم سب اس آیت سے سبق لیں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔