Wa qatta`naahum fil ardi umamam minhumus aalihoona wa min hum doona zaalika wa balawnaahum bilhasanaati wassaiyi aati la`allahum yarji`oon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنان را گروه گروه در زمين تقسيم كرديم، بعضى نيكوكار و بعضى جز آن. و به نيكيها و بديها آزموديم، شايد بازگردند.
قَطَّعْنَاهُمْ: ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، یعنی مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا۔
أُمَمًا: جماعتیں، گروہ۔
الصَّالِحُونَ: نیک لوگ، جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والے ہیں۔
دُونَ ذَٰلِكَ: اس سے کم درجہ والے، یعنی جو نیکی میں کم تر ہیں۔
بَلَوْنَاهُمْ: ہم نے انہیں آزمایا۔
بِالْحَسَنَاتِ: خوشحالی، آسودگی، رزق کی کشادگی۔
وَالسَّيِّئَاتِ: سختی، تنگی، مصیبتیں اور برائیاں۔
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ: تاکہ وہ (اپنی سرکشی سے) باز آ جائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک خاص مقام پر جمع ہونے کے بعد زمین میں مختلف حصوں میں بٹا دیا، تاکہ وہ الگ الگ جماعتیں بن کر رہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ صالح تھے، جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرنے والے تھے، اور کچھ اس سے کم درجے کے تھے، یعنی وہ نیکی میں پیچھے رہ گئے، کچھ میانہ رو تھے اور کچھ اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔ پھر اللہ نے انہیں آزمایا — کبھی خوشحالی اور رزق کی کشادگی سے، کبھی سختی اور مصیبتوں سے — تاکہ وہ اپنی غلطیوں کو محسوس کریں، اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں، اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ یہ آزمائشیں رحمت کا پردہ ہیں، کیونکہ اللہ چاہتا ہے کہ بندہ سنبھل جائے، نہ کہ ہلاک ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو مختلف حالات سے آزماتا ہے — کبھی نعمت دے کر دیکھتا ہے کہ شکر کرتے ہیں یا نہیں، کبھی مصیبت دے کر دیکھتا ہے کہ صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ آزمائشیں ہمارے لیے رحمت ہیں، کیونکہ یہ ہمیں جھنجھوڑ کر اللہ کی طرف واپس لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ جب ہم خوشحالی میں ہوں تو شکر ادا کریں، اور جب تنگی میں ہوں تو صبر کریں اور اللہ سے توبہ کریں۔ یاد رکھیں، اللہ ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے، اور وہ ہماری بھلائی چاہتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں اس حقیقت کو اپنائیں کہ ہر آزمائش کے پیچھے اللہ کی حکمت ہے، اور اس کا مقصد ہمیں صاف ستھرا اور نیک بنانا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہر حال میں اس کی طرف رجوع کریں۔ آمین۔
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔