اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يُمَسِّكُونَ: مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں، سختی سے عمل کرتے ہیں۔
بِالْكِتَابِ: اس کتاب (تورات یا قرآن) سے مراد ہے جو اللہ نے نازل فرمائی۔
أَقَامُوا الصَّلَاةَ: نماز کو اس کے وقت، شرائط اور آداب کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔
الْمُصْلِحِينَ: وہ لوگ جو اپنے اعمال اور معاملات کو درست کرتے ہیں، نیکی اور اصلاح کرنے والے۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کی تعریف بیان کرتی ہے جو کتابِ الٰہی کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں، یعنی اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے احکام پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف اسے پڑھتے ہیں بلکہ اس میں موجود عقائد، احکام اور اخلاقیات کو اپنی زندگی میں نافذ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نماز کو اس کی تمام شرائط، واجبات اور سنن کے ساتھ قائم کرتے ہیں، وقت کی پابندی کرتے ہیں اور اسے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
یہاں خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ نماز دین کا ستون ہے اور اس کی حفاظت کرنا ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔ جو لوگ اس طرح کتاب اور نماز سے وابستہ رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں یقین دلاتا ہے کہ وہ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اصلاح کرنے والوں کا اجر ضرور دے گا، چاہے وہ اجر اس دنیا میں ہو یا آخرت میں۔
یہ آیت اہلِ کتاب کے ان مخلص لوگوں کے بارے میں بھی ہے جنہوں نے تورات کو تحریف سے بچایا اور اس پر عمل کیا، جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ انہوں نے کتاب کو نہ چھپایا اور نہ اس میں تبدیلی کی، بلکہ اس پر ایمان لائے اور نماز قائم کی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے فضل سے نوازنے کا وعدہ فرمایا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا بھی عمل ضائع نہیں کرتا، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس پر عمل کریں اور نماز کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ ادا کریں۔ جو لوگ اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالتے ہیں، وہی اصلاح کرنے والے ہیں، اور اللہ انہیں کبھی محروم نہیں کرے گا۔ یہ وعدہ ہر اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو اپنی زندگی کو قرآن اور سنت کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ سے امید رکھیں، کیونکہ وہ بہترین اجر دینے والا ہے۔
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔