Wallazeena aamanoo wa `amilus saalihaati la nukallifu nafsan illaa wus`ahaaa ulaaa`ika Ashaabul jannati hum feehaa khaalidoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به هيچ كس جز اندازه توانش تكليف نمىكنيم. آنان كه ايمان آوردهاند و كارهاى نيكو كردهاند اهل بهشتند و در آنجا جاويدانند.
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَا نُكَلِّفُ: ہم ذمہ داری نہیں ڈالتے۔
وُسْعَهَا: اس کی طاقت اور استطاعت کے مطابق۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو خوشخبری سناتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ان کے لیے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کوئی ایسی ذمہ داری نہیں ڈالتا جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔ وہ اپنے رب کی اطاعت اور نیک کاموں کی توفیق ہر اس شخص کو دیتا ہے جو خلوص نیت سے چاہتا ہے۔
یہ آیت مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صرف اتنی ذمہ داری ڈالی ہے جتنی وہ برداشت کر سکتے ہیں۔ اللہ کا دین آسان ہے، اور وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں کو جانتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور اپنی استطاعت کے مطابق نیک اعمال کیے، وہی جنتی ہیں۔ وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، اور انہیں کبھی وہاں سے نکلنا نہیں پڑے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک آسان دین ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سے وہی چاہتا ہے جو ہماری طاقت میں ہے۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کی وجہ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق نیک اعمال کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اور وہ اپنے بندوں کے چھوٹے چھوٹے نیک اعمال کو بھی قبول فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایمان کی دولت حاصل کریں اور نیک اعمال میں مسلسل لگے رہیں، کیونکہ یہی جنت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل کرے گا۔ یہ وعدہ سچا ہے، اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو
اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔