اعراف · 43/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ۖ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ ۖ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۖ وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۝٤٣
Wa naza`naa maa fee sudoorihim min ghillin tajree min tahtihimul anhaaru wa qaalul hamdu lillaahil lazee hadaanaa lihaaza wa maa kunna linahtadiya law laaa ann hadaanal laahu laqad jaaa`at Rusulu Rabbinaa bilhaqq; wa noodoo an tilkumul jannnatu ooristumoohaa bimaa kuntum ta`maloon
📖 اردو ترجمہ
اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • غِلّ: کینہ، بغض، حسد، اور دلوں میں چھپی ہوئی عداوت۔
  • نَزَعْنَا: ہم نے نکال دیا، دور کر دیا۔
  • أُورِثْتُمُوهَا: تمہیں یہ وراثت میں دی گئی، یعنی تمہیں یہ عطا کر دی گئی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل جنت کی اس عظیم نعمت کا ذکر فرما رہے ہیں جو انہیں جنت میں داخل ہونے کے بعد حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے دلوں سے ہر قسم کا کینہ، حسد، بغض اور عداوت نکال دیں گے، یہاں تک کہ ان کے دلوں میں کوئی کدورت باقی نہ رہے گی۔ یہ اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے، کیونکہ جنت میں داخل ہونے والے لوگ پاک دل اور صاف روح کے ساتھ ہوں گے، اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور الفت ہوگی۔ اس کے علاوہ، ان کی خوشی اور مسرت کی تکمیل کے لیے ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور دلوں کو سکون بخشیں گی۔

جب اہل جنت اس عظیم نعمت کو دیکھیں گے تو وہ شکر کے ساتھ کہیں گے: "الحمد للہ جس نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا۔" وہ اس بات کا اعتراف کریں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نہ دیتا تو وہ کبھی اس راستے پر نہ چل سکتے، اور نہ ہی اس نعمت کے حقدار بنتے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ کے رسول سچائی کے ساتھ آئے تھے، اور انہوں نے جو کچھ بتایا تھا، وہ سب حق تھا۔ اس کے بعد انہیں ندا دی جائے گی: "یہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، اپنے ان اعمال کی وجہ سے جو تم نے دنیا میں کیے تھے۔"

یہ آیت ہمیں بہت سی اہم باتیں سکھاتی ہے۔ سب سے پہلے، یہ کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دلوں کو کینہ، حسد اور بغض سے پاک کریں۔ دوسرے، یہ کہ ہماری نجات اور کامیابی کا دارومدار اللہ کی ہدایت پر ہے، اور ہمیں ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ تیسرے، یہ کہ ہمیں اللہ کے رسولوں پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ انہوں نے ہی ہمیں حق کا راستہ دکھایا ہے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جنت کی نعمتیں صرف اللہ کی رحمت سے ملتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے نیک اعمال بھی ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں توفیق دیتا ہے، اور پھر ہمارے اعمال کی برکت سے ہمیں جنت عطا فرماتا ہے۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے، کینہ اور حسد سے بچنا چاہیے، اور اللہ کی ہدایت پر چل کر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس عظیم نعمت تک پہنچائے گا، جہاں ہر قسم کی پریشانیاں ختم ہو جائیں گی اور صرف سکون اور خوشی ہوگی۔ اللہ ہم سب کو اس عظیم نعمت کا حقدار بنائے، آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 41-45 — اعراف

41لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
42وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
43وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ۖ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ ۖ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۖ وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو
44وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت
45الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَ
جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
43آیت

ترجمہ — اعراف 43

سورہ اعراف آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم…

سورہ آیت 43/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں