انفال · 47/75
ترجمہ تلفظ — انفال
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِم بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ۝٤٧
Wa laa takoonoo kallazeena kharajoo min diyaarihim bataranw wa ri`aaa`an naasi wa yasuddoona `an sabeelil laah; wallaahu bimaa ya`maloona muheet
📖 اردو ترجمہ
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَطَرًا: تکبر، غرور اور سرکشی کے ساتھ۔
  • رِئَاءَ النَّاسِ: لوگوں کو دکھانے کے لیے، ریاکاری کے طور پر۔
  • یَصُدُّونَ: روکتے ہیں، باز رکھتے ہیں۔
  • مُحِیطٌ: احاطہ کرنے والا، ہر چیز کو گھیرے ہوئے، سب کچھ جاننے والا۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو ایک اہم سبق اور نصیحت فرما رہے ہیں کہ تم ان لوگوں جیسے نہ بنو جو اپنے گھروں سے نکلے تو ان کا مقصد صرف تکبر، غرور اور ریاکاری تھا۔ یہ مشرکینِ مکہ کا ذکر ہے جو بدر کے میدان میں اس لیے نکلے تھے کہ لوگ ان کی شجاعت اور بڑائی کی تعریف کریں، اور وہ اپنی طاقت اور تعداد پر فخر کریں۔ ان کا مقصد حق کی حمایت یا اللہ کے دین کی سربلندی نہیں تھی، بلکہ محض دنیاوی شہرت اور لوگوں کی نظروں میں عزت حاصل کرنا تھا۔

ساتھ ہی وہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے، یعنی لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے منع کرتے تھے اور انہیں دینِ حق کی طرف آنے سے باز رکھتے تھے۔ یہ ان کی اضافی برائی تھی کہ وہ نہ صرف خود گمراہ تھے بلکہ دوسروں کو بھی ہدایت سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ ان کے تمام اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یعنی اللہ کے علم سے ان کی کوئی حرکت، کوئی نیت، کوئی چھپی ہوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور ان کے اعمال کا پورا حساب رکھتا ہے۔ یہ ایک سخت وعید اور ڈرانے کی بات ہے کہ جو لوگ ریاکاری اور تکبر کے ساتھ نکلے، ان کا انجام برا ہوگا اور اللہ انہیں ان کے اعمال کی سزا دے گا۔

اس آیت سے مسلمانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ ہر عمل میں نیت کو درست رکھیں۔ جہاد، عبادت، یا کوئی بھی نیک کام صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ دنیاوی شہرت یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے۔ ریاکاری اور تکبر وہ بیماریاں ہیں جو اعمال کو برباد کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ہم کس نیت سے اٹھتے ہیں، کس نیت سے بیٹھتے ہیں، اور کس نیت سے کوئی کام کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے کریں گے تو اللہ ہمیں کامیابی عطا فرمائے گا، اور اگر ہم ریاکاری کریں گے تو ہمارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 45-49 — انفال

45يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو
46وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے
47وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِم بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے
48وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكُمْ إِنِّي أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ۚ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
49إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰؤُلَاءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
انفالقرآن فہرست
75آیت
مدنیRevelation
47آیت

ترجمہ — انفال 47

سورہ انفال آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی…

سورہ آیت 47/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں