انفال · 48/75
ترجمہ تلفظ — انفال
وَإِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلۡيَوۡمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمۡۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلۡفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيٓءٌ مِّنكُمۡ إِنِّيٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوۡنَ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ  ۝٤٨
Wa iz zaiyana lahumush shaitaanu a`ma alahum wa qaala laa ghaaliba lakumul yawma minan naasi wa innee jaarul lakum falammaa taraaa`atil fi`ataani nakasa `alaa aqibaihi wa qaala innee bareee`um minkum innee araa maa laa tarawna inneee akhaaful laah; wallaahu shadeedul `iqaab
📖 اردو ترجمہ
اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • زَيَّنَ: خوبصورت بنا کر پیش کیا، بھلا لگایا
  • لَا غَالِبَ لَكُمُ: تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا
  • جَارٌ: پناہ دینے والا، حفاظت کرنے والا
  • تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ: دونوں گروہوں کا ایک دوسرے کو دیکھنا، آمنے سامنے ہونا
  • نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ: الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گیا، بھاگ کھڑا ہوا
  • بَرِيءٌ: بیزار، الگ، لاتعلق

تفسیر:

اے ایمان والو! اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی مدد سے نوازا اور شیطان نے مشرکین کے سامنے ان کے برے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کیا۔ اس نے ان کی دلیری بڑھائی اور انہیں جنگ پر اکسایا، حتیٰ کہ انہیں یہ یقین دلا دیا کہ آج کے دن تم پر کوئی بھی غالب نہیں آ سکتا، اور میں خود تمہارا محافظ اور پناہ دینے والا ہوں۔ اس طرح شیطان نے ان کے دلوں میں جھوٹی ہمت اور بے جا اعتماد پیدا کر دیا۔

مگر جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آ گئیں اور مسلمانوں کی مدد کے لیے اللہ کے فرشتے اتر آئے، تو شیطان کی ساری چمک دمک ختم ہو گئی۔ وہ الٹے پاؤں بھاگ کھڑا ہوا اور چیخ کر کہنے لگا: "میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے، مجھے اللہ کا خوف ہے۔" اس نے اپنے وعدوں سے انکار کر دیا اور اپنے پیروکاروں کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گیا۔

یہ شیطان کی دائمی عادت ہے کہ وہ انسان کو برے کام کی ترغیب دیتا ہے، اسے بہلا پھسلا کر آگے بڑھاتا ہے، مگر جب معاملہ سنجیدہ ہو جاتا ہے اور انجام کا وقت آتا ہے، تو وہ اپنے ساتھیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، اس لیے وہ خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں شیطان کے دھوکے سے بچنا چاہیے۔ وہ ہمیں گناہوں کی خوبصورت صورت دکھاتا ہے، برائی کو بھلا بنا کر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ہمیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ شیطان کا وعدہ ہمیشہ جھوٹا ہوتا ہے، اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا۔ اللہ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

یاد رکھیں کہ جب آپ اللہ کی راہ میں قدم بڑھاتے ہیں تو شیطان آپ کو ڈرانے کی کوشش کرتا ہے، مگر اگر آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں گے تو وہ آپ کے سامنے سے بھاگ جائے گا، جیسے وہ بدر کے دن مشرکین کو چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حفاظت فرماتا ہے، اور اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے، اس لیے ہمیں اس کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 46-50 — انفال

46وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُواْ فَتَفۡشَلُواْ وَتَذۡهَبَ رِيحُكُمۡۖ وَٱصۡبِرُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ 
اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے
47وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٌ 
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے
48وَإِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلۡيَوۡمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمۡۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلۡفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيٓءٌ مِّنكُمۡ إِنِّيٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوۡنَ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ 
اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
49إِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمۡۗ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
50وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ 
اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو
انفالقرآن فہرست
75آیت
مدنیRevelation
48آیت

ترجمہ — انفال 48

سورہ آیت 48/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 46–50. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں