Innamaa ya`muru masaa jidal laahi man aamana billaahi wal Yawmil Aakhiri wa aqaamas Salaata wa aataz Zakaata wa lam yakkhsa illal laaha fa`asaaa ulaaa`ika ai yakoonoo minal muhtadeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مسجدهاى خدا را كسانى عمارت مىكنند كه به خدا و روز قيامت ايمان آوردهاند و نماز مىگزارند و زكات مىدهند و جز از خدا نمى ترسند. اميد است كه اينان از هدايتيافتگان باشند.
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَعْمُرُ: آباد کرنا، تعمیر کرنا، دیکھ بھال کرنا، صاف ستھرا رکھنا، اور اس میں عبادت کرنا۔
مَسَاجِدَ: مسجدیں، اللہ کے گھر۔
آمَنَ: ایمان لایا، دل سے تصدیق کی۔
الْیَوْمِ الْآخِرِ: قیامت کے دن پر یقین۔
أَقَامَ الصَّلَاةَ: نماز کو قائم کیا، یعنی اسے پوری طرح ادا کیا۔
آتَى الزَّكَاةَ: زکوٰۃ دی، مال کی پاکیزگی کا حق ادا کیا۔
لَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ: اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا، نہ کسی کی خاطر اللہ کا حکم چھوڑا۔
فَعَسَىٰ: پس امید ہے کہ، (اللہ کی طرف سے یہ وعدہ ہے)۔
الْمُهْتَدِينَ: ہدایت یافتہ، سیدھے راستے پر چلنے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں واضح فرما رہے ہیں کہ مساجد کو آباد کرنے کا حقیقی حق صرف انہی لوگوں کو ہے جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر، یعنی ان کا ایمان صرف زبانی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ہے۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور اپنی زندگی میں کسی انسان، طاقت یا مفاد کا خوف نہیں رکھتے، بلکہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ یہی لوگ مساجد کو حقیقی معنوں میں آباد کرتے ہیں، چاہے وہ اس کی تعمیر کریں، صفائی کریں، یا اس میں عبادت اور ذکر کریں۔
مسجد کی عمارت کا مطلب صرف اینٹوں اور پتھروں سے عمارت کھڑی کرنا نہیں، بلکہ اسے اللہ کے لیے مخصوص رکھنا، اس میں نماز پڑھنا، قرآن پڑھنا، علم دین حاصل کرنا اور سکھانا، اور اسے دنیاوی جھگڑوں اور شور و غل سے پاک رکھنا ہے۔ جو شخص ان صفات کا حامل ہو، اس کے بارے میں اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوگا۔ "عسى" جو اللہ کی طرف سے استعمال ہوا ہے، وہ وعدہ ہے، محض امید نہیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا اور پورا ہونے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے، اور اس کی حقیقی آبادی وہی کر سکتا ہے جس کا دل ایمان سے روشن ہو، جس کی زبان ذکر سے تر ہو، اور جس کا مال زکوٰۃ سے پاک ہو۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسجدیں بنتی ہیں، لیکن کچھ لوگ صرف دکھاوے کے لیے بنواتے ہیں، یا مسجد کو دنیاوی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، نماز کی پابندی کریں، زکوٰۃ دیں، اور اللہ کے سوا کسی کا خوف دل میں نہ رکھیں۔ جب ہم یہ کریں گے تو اللہ ہمیں ہدایت کی راہ پر چلائے گا، اور ہماری مسجدیں حقیقی معنوں میں آباد ہوں گی، جو ہمارے لیے دنیا اور آخرت میں باعث برکت ہوں گی۔ یاد رکھیں، مسجد کی آبادی دل کی آبادی سے جڑی ہوئی ہے، اور دل کی آبادی ایمان اور تقویٰ سے ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں ان صفات کو اپنانے کی توفیق دے، آمین۔
کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔