توبہ · 19/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
۞ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ۝١٩
Aja`altum siqaayatal haaajji wa `imaaratal masjidil haraami kamman aamana billaahi wal Yawmil Aakhiri wa jaahada fee sabeelil laah; laa yastawoona `indal laah; wallaahu laa yahdil qawmaz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سِقایَةُ الْحَاجِّ: حاجیوں کو پانی پلانے کا انتظام
  • عِمَارَةُ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ: مسجد حرام کی خدمت، دیکھ بھال اور آبادی
  • لَا یَسْتَوُونَ: برابر نہیں ہیں
  • الظَّالِمِینَ: ظلم کرنے والے (یہاں مراد مشرکین ہیں)

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے خطاب فرما رہے ہیں جنہوں نے اپنے بعض اعمالِ خیر کو ایمان اور جہاد کے برابر سمجھ لیا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں قریش کے کچھ لوگ حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی خدمت و آبادی پر بہت فخر کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کر لیا کہ یہ کام ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے افضل ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس خیال کو سختی سے رد فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی خدمت کو ان لوگوں کے برابر کر دیا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ ہرگز نہیں! یہ دونوں چیزیں اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہو سکتیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان اور جہاد وہ بنیادی اعمال ہیں جن کی بنیاد توحید اور خلوص نیت پر ہوتی ہے، جبکہ مشرکین کے یہ اعمال شرک سے آلودہ ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں قبول نہیں فرماتا۔ اللہ کے نزدیک اعمال کی قبولیت کا دارومدار ایمان پر ہے، نہ کہ صرف ظاہری خوبصورتی پر۔

آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا، یعنی وہ لوگ جو شرک کر کے اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں، اللہ انہیں توفیقِ عملِ خیر نہیں دیتا، چاہے وہ ظاہری طور پر کتنے ہی اچھے کام کیوں نہ کر رہے ہوں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ نیکیوں کی اصل قیمت ایمان کے ساتھ ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کی بنیاد ایمان اور اخلاص پر رکھے، کیونکہ اللہ کے نزدیک وہی اعمال مقبول ہیں جو ایمان کی روشنی میں کیے جائیں۔ ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ کسی بھی نیک کام پر فخر کرنے کے بجائے اللہ سے قبولیت کی دعا کرنی چاہیے، اور یاد رکھنا چاہیے کہ اصل فضیلت ایمان، جہاد اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے، نہ کہ دنیاوی شہرت اور ناموری میں۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اعمال کو شرک اور ریاکاری سے پاک رکھیں اور خالص اللہ کے لیے کام کریں تاکہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 17-21 — توبہ

17مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ
مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے
18إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں
19۞ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
20الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ
جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں
21يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ
ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
19آیت

ترجمہ — توبہ 19

سورہ توبہ آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم…

سورہ آیت 19/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں