توبہ · 17/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ ۝١٧
maa kaana lilmushrikeena ai ya`muroo masaajidal laahi shaahideena `alaaa anfusihim bilkufr; ulaaa`ika habitat a`maaluhum wa fin naari hum khaalidoon
📖 اردو ترجمہ
مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یَعْمُرُوا: آباد کریں، تعمیر کریں، خدمت کریں۔
  • شَاهِدِینَ: گواہی دیتے ہوئے۔
  • حَبِطَتْ: ضائع ہوگئیں، برباد ہوگئیں۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مسجد الحرام کی خدمت، حجاج کی سقایت اور کعبہ کی پردہ داری کو اپنا فخر اور برتری کا ذریعہ بنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ مشرکین کا یہ کام نہ تو شایانِ شان ہے اور نہ ہی انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اللہ کے مساجد کو آباد کریں، جبکہ وہ خود اپنے کفر کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ شرک، بت پرستی اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب جیسے اعمال سے اپنے کفر کا خود گواہ ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرکین تو مسجد الحرام کی خدمت کرتے تھے، تو ان کا یہ عمل کیوں قبول نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عمارتِ مسجد کا اصل مقصد اللہ کی عبادت اور اس کی وحدانیت کا قیام ہے، لیکن مشرکین اپنے کفر اور شرک کے باوجود مساجد کی خدمت کرتے تھے، اس لیے ان کا یہ عمل ان کے کفر کی وجہ سے ضائع ہوگیا۔ ایمان کے بغیر کوئی بھی نیکی اللہ کے ہاں مقبول نہیں، جیسے کھجور کے درخت کو پانی دینے سے کوئی انگور نہیں اگتے۔

ان مشرکین کے سارے اعمال اس لیے برباد ہوگئے کہ ان کی بنیاد ہی کفر اور شرک پر تھی۔ وہ اللہ کے لیے نہیں بلکہ اپنی شہرت اور فخر کے لیے کام کرتے تھے۔ ان کا انجام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے، جب تک وہ اپنے شرک سے توبہ نہیں کرتے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے گھروں کی تعمیر اور خدمت کا شرف صرف انہیں حاصل ہے جو ایمان رکھتے ہیں اور شرک سے پاک ہیں۔ ایمان ہی وہ کلید ہے جو ہر نیکی کو اللہ کے ہاں قبولیت کا درجہ دلاتی ہے۔ جس شخص کے دل میں ایمان کی روشنی ہو، اس کے معمولی عمل بھی اللہ کے ہاں بیش قیمت ہوتے ہیں، اور جس کے دل میں کفر ہو، اس کی بڑی سے بڑی عبادت بھی اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمانوں کو یہ سعادت عطا فرمائی ہے کہ ہم مساجد کی تعمیر اور خدمت کا شرف رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور مساجد کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص رکھیں۔ یاد رکھیں، مسجد کی حقیقی آبادی صرف اینٹوں اور پتھر سے نہیں، بلکہ اللہ کے ذکر، تلاوتِ قرآن اور عبادت سے ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنی مساجد کی حقیقی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 15-19 — توبہ

15وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ۗ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے
16أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِن دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
17مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ
مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے
18إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں
19۞ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
17آیت

ترجمہ — توبہ 17

سورہ توبہ آیت 17 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد…

سورہ آیت 17/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں