Yaaa aiyuhal lazeena aamanooo inna kaseeramminal ahbaari warruhbaani la yaakuloona amwaalan naasi bil baatili wa yasuddoona `an sabeelil laah; wallazeena yaknizoonaz zahaba wal fiddata wa laayunfiqoonahaa fee sabeelil laahi fabashshirhum bi`azaabin aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى كسانى كه ايمان آوردهايد، بسيارى از حبرها و راهبان اموال مردم را به ناشايست مىخورند و ديگران را از راه خدا باز مىدارند. و كسانى را كه زر و سيم مىاندوزند و در راه خدا انفاقش نمىكنند، به عذابى دردآور بشارت ده؛
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الأحبار: علماء یہود
الرهبان: عبادت گزار نصرانی (جو اپنے آپ کو عبادت کے لیے الگ کر لیتے ہیں)
بالباطل: ناحق طریقے سے، رشوت اور دھوکے سے
يکنزون: جمع کرتے ہیں، خزانہ بناتے ہیں
سبیل اللہ: اللہ کی راہ، اسلام اور اس کی تعلیمات
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو خبردار کرتا ہے کہ اہل کتاب کے بہت سے علماء اور عبادت گزار لوگ حقیقت میں ایسے نہیں ہیں جیسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لوگ لوگوں کے مال ناحق کھاتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، اور اپنے عہدوں کا غلط فائدہ اٹھا کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ نہ صرف خود گمراہ ہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کی بھی کوشش کرتے ہیں تاکہ حق ظاہر نہ ہو اور لوگ اسلام کی روشنی سے محروم رہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں بھی سخت وعید سناتا ہے جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس میں سے اللہ کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے دردناک عذاب کی خوشخبری (بری خبر) سنائی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ مال کی محبت اور اسے روک رکھنے کا انجام بہت برا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں دو بڑی حقیقتوں سے آگاہ کرتی ہے: ایک یہ کہ ہمیں اپنے علم اور دین داری پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ظاہری عبادت اور بڑے بڑے لقب کسی کو اللہ کے نزدیک مقبول نہیں بنا سکتے جب تک دل اور عمل صالح نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ مال اللہ کا عطیہ ہے، اور اس میں فقیروں اور محتاجوں کا حق مقرر ہے۔ جو شخص اپنے مال سے زکوٰۃ اور دیگر حقوق ادا نہیں کرتا، وہ دراصل اپنے لیے اللہ کا غضب خرید رہا ہے۔
اللہ نے ہمیں جو مال دیا ہے وہ آزمائش ہے، نہ کہ صرف لطف اندوزی کا ذریعہ۔ اگر ہم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے تو یہ ہمارے لیے باعث برکت ہوگا، ورنہ یہی مال قیامت کے دن ہمارے خلاف گواہی دے گا۔ آئیے ہم اپنے اموال میں اللہ کا حق ادا کریں، اور اپنے علم اور عمل کو خالص اللہ کے لیے بنائیں تاکہ ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جن کے بارے میں یہ سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ ہمیں مال کی محبت سے بچائے اور اسے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔