مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دینا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى كسانى كه ايمان آوردهايد، چيست كه چون به شما گويند كه براى جنگ در راه خدا بسيج شويد، گويى به زمين مىچسبيد؟ آيا به جاى زندگى اخروى به زندگى دنيا راضى شدهايد؟ متاع اين دنيا در برابر متاع آخرت جز اندكى هيچ نيست.
مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دینا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
انفِرُوا: نکل جاؤو، جہاد کے لیے روانہ ہو جاؤ۔
اثَّاقَلْتُمْ: بوجھل ہو گئے، کاہلی اور سستی کا مظاہرہ کیا۔
إِلَى الْأَرْضِ: زمین سے لگ گئے، یعنی اپنے گھروں اور آرام کی جگہوں سے چمٹ گئے۔
مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا: دنیا کی زندگی کا سامان اور فائدہ۔
تفسیر:
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو، تو تم زمین سے چمٹ جاتے ہو اور سستی و کاہلی کا شکار ہو جاتے ہو؟ کیا تم نے آخرت کی دائمی نعمتوں کے بدلے دنیا کی عارضی زندگی کو پسند کر لیا ہے؟ حالانکہ دنیا کی زندگی کا سارا سامان اور لذتیں آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں بالکل حقیر اور بے وقعت ہیں۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے لیے نکلنے کا حکم دیا، اور کچھ مسلمانوں نے سخت گرمی، لمبا سفر اور مشکلات کے خوف سے پیچھے رہنے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر ملامت فرمائی اور ان کے ایمان کو آزمایا کہ کیا وہ واقعی آخرت پر یقین رکھتے ہیں؟ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو دنیا کی عارضی راحتوں کو آخرت کی دائمی کامیابی پر ترجیح دینا ان کے ایمان کے منافی ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف زبان سے اقرار نہیں بلکہ عمل سے ثبوت ہے۔ جب اللہ اور اس کے رسول کا حکم آئے تو ہمیں فوراً لبیک کہنا چاہیے، چاہے اس میں دنیاوی مفادات کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ یاد رکھو! دنیا کی ساری خوشیاں اور آسائشیں ایک لمحے کی چمک ہیں جو ختم ہو جاتی ہیں، لیکن آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور کسی دل نے نہیں سوچا۔ تو کیا ہم اس دائمی خوشی کو چھوڑ کر دنیا کی عارضی راحت پر راضی ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور جب بھی اللہ کے راستے میں نکلنے کا موقع ملے، بلا جھجک آگے بڑھیں، کیونکہ یہی کامیابی اور سربلندی کا راستہ ہے۔
خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دینا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں
اور اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہوں گے) اور تم اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔