Wa minhum man `aaha dal laaha la`in aataanaa min fadlihee lanas saddaqanna wa lanakoonanna minassaaliheen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بعضى از آنها با خدا پيمان بستند كه اگر از فضل خود مالى نصيبمان كند، زكات مىدهيم و در زمره صالحان درمىآييم.
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عَاہَدَ اللہَ: اللہ سے عہد و پیمان باندھا۔
لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِہٖ: اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے مال دیا۔
لَنَصَّدَّقَنَّ: ہم ضرور صدقہ و خیرات کریں گے۔
مِنَ الصَّالِحِینَ: نیک اور صالح لوگوں میں شامل ہوں گے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ منافقین کے ایک اور قبیح رویے سے پردہ اٹھاتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ تھے جو اللہ سے عہد کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے مال و دولت دے گا تو ہم ضرور صدقہ و خیرات کریں گے اور نیک لوگوں کی طرح صالح زندگی گزاریں گے۔ یہ عہد و پیمان انہوں نے اپنی زبان سے کیا تھا، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے مال دیا تو وہ اپنے اس عہد کو بھول گئے اور بخیلی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نہ تو صدقہ کیا اور نہ ہی صالحین کے راستے پر چلے۔ یہ منافقین کی علامت ہے کہ وہ زبانی دعوے بہت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ان دعووں پر عمل نہیں کرتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ سے عہد کرنا آسان ہے لیکن اس عہد کو نبھانا مشکل ہے۔ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ سے جو وعدہ کرے اسے پورا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو مال دیا ہے وہ دراصل ایک امانت ہے، جس میں فقراء و مساکین کا حق بھی شامل ہے۔ اگر ہم اس حق کو ادا کریں گے تو اللہ ہمیں مزید برکت دے گا، لیکن اگر ہم بخیلی کریں گے تو یہ ہمارے لیے نقصان کا باعث ہوگا۔ یاد رکھیں! صدقہ و خیرات نہ صرف مال کو بڑھاتا ہے بلکہ دل کو بھی پاک کرتا ہے اور انسان کو اللہ کا محبوب بناتا ہے۔ آئیے ہم اپنے رب سے جو وعدے کریں انہیں پورا کریں اور صدقہ و خیرات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ہم بھی صالحین میں شمار ہوں۔ اللہ تعالیٰ بخیلوں کو پسند نہیں کرتا، بلکہ وہ سخیوں اور فیاضوں سے محبت کرتا ہے۔
یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے
تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔