Kaifa wa iny-yazharoo `alaikum laa yarquboo feekum illanw wa laa zimmah; yurdoo nakum biafwaahihim wa taabaa quloobuhum wa aksaruhum faasiqoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چگونه پيمانى باشد كه اگر بر شما پيروز شوند به هيچ عهد و سوگند و خويشاوندى وفا نكنند؟ به زبان خشنودتان مىسازند و در دل سر مىپيچند و بيشترين عصيانگرانند.
(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یظهروا علیکم: تم پر غالب آ جائیں، تم پر فتح پا لیں۔
یرقبوا: لحاظ کریں، خیال رکھیں۔
إلًّا: قرابت کا رشتہ، رشتہ داری۔
ذمّة: عہد و پیمان، امان کا وعدہ۔
یرضونکم بأفواههم: وہ تمہیں اپنے منہ (زبان) سے راضی کرتے ہیں، یعنی میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں۔
تأبى قلوبهم: ان کے دل انکار کرتے ہیں، دل زبان کی تصدیق نہیں کرتے۔
فاسقون: نافرمان، عہد شکن، اللہ کی اطاعت سے خارج۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکین کا اصلی چہرہ کھول رہے ہیں تاکہ مسلمان ان کے دھوکے میں نہ آئیں۔ سوالیہ انداز میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان مشرکوں کا کوئی عہد و امان کیسے ہو سکتا ہے؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر انہیں تم پر غلبہ مل جائے، موقع مل جائے، تو وہ نہ تمہاری قرابت اور رشتہ داری کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد و پیمان کا۔ وہ تمہیں اپنی زبانوں سے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بڑی میٹھی باتیں کرتے ہیں، لیکن ان کے دل ان باتوں کی تصدیق نہیں کرتے۔ ان کی زبانیں الگ کہتی ہیں اور دل الگ چاہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر فاسق اور عہد شکن ہیں، جو اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں اور کسی وعدے کے پابند نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہوشیار رہے اور دشمنوں کی چاپلوسی اور میٹھی باتوں پر اعتماد نہ کرے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کی پہچان صرف زبان سے نہیں بلکہ دل اور عمل سے ہوتی ہے۔ جس طرح منافقین کی زبان پر ایمان اور دل میں کفر ہوتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے قول اور فعل میں سچے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آیت کے ذریعے متنبہ فرماتے ہیں کہ دشمنوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت ان کی ظاہری باتوں پر نہیں بلکہ ان کے اعمال اور حقیقت پر نظر رکھیں۔ یہ حکمت ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بناتی ہے۔ اللہ ہمیں سچائی، وفاداری اور عہد کی پاسداری کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دھوکہ بازوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں
بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے
(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔