ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عہد: وعد، معاہدہ، امان اور حفاظت کا وعدہ۔
- استقامت: ثابت قدم رہنا، عہد پر قائم رہنا۔
- متقی: پرہیزگار، جو اللہ کے احکام کی پابندی کرے اور اس کی نافرمانی سے بچے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ مشرکین کے ساتھ کسی بھی عہد و پیمان کے بارے میں ایک اہم اصول بیان فرما رہے ہیں۔ سوال کے انداز میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے پاس کوئی عہد کیسے باقی رہ سکتا ہے، جبکہ وہ خود عہد شکنی کرتے ہیں اور اپنے وعدوں کو توڑ دیتے ہیں؟ ان کی عادت ہی دھوکہ اور غداری ہے، اس لیے ان سے کوئی پختہ معاہدہ کرنا عبث ہے۔
البتہ اس حکم سے ایک استثناء ہے، اور وہ ہیں وہ مشرکین جن سے مسلمانوں نے مسجدِ حرام کے پاس (صلح حدیبیہ کے موقع پر) معاہدہ کیا تھا۔ یہ وہ قبائل تھے جنہوں نے عہد کو نبھانے کا عزم کیا اور اس پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ جب تک یہ لوگ تمہارے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہیں، تم بھی ان کے ساتھ عہد پر قائم رہو اور اسے نہ توڑو۔ یہ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ جو عہد نبھائے، اس کے ساتھ عہد نبھایا جائے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، یعنی جو اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں پرہیزگاری سے کام لیتے ہیں اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے کہ اللہ کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ عہد کی پاسداری اور تقویٰ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اسلام دینِ امانت اور وفا ہے۔ ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے وعدوں کا پابند ہو، چاہے سامنے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ آج کے دور میں بھی ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں دیانت داری اور عہد کی پاسداری کو اپنا شعار بنائیں۔ یہی وہ خوبی ہے جو اللہ کو پسند ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو کامیابی اور سربلندی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ اور وفا شعاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 5-9 — توبہ
ترجمہ — توبہ 7
سورہ آیت 7/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







