توبہ · 91/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝٩١
Laisa `alad du`aaaa`i wa laa `alal mardaa wa laa `alal lazeena laa yajidoona maa yunfiqoona harajun izaa nasahoo lillaahi wa Rasoolih; maa `alal muhsineena min sabeel; wallaahu Ghafoorur Raheem
📖 اردو ترجمہ
نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الضُّعَفَاءِ: کمزور لوگ، جن میں بوڑھے، بچے، معذور اور وہ لوگ شامل ہیں جو جسمانی طور پر جہاد کی طاقت نہیں رکھتے۔
  • الْمَرْضَىٰ: بیمار لوگ، جو بیماری کی وجہ سے جہاد پر جانے سے قاصر ہوں۔
  • لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ: وہ لوگ جو خرچ کرنے کے لیے مال نہیں پاتے، یعنی مفلس اور نادار۔
  • حَرَجٌ: تنگی، رکاوٹ، یا گناہ۔
  • نَصَحُوا: خیرخواہی کی، اخلاص کیا۔
  • سَبِيلٍ: راستہ، یعنی مؤاخذے یا الزام کا کوئی راستہ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں کو مکمل رعایت اور چھوٹ عطا فرمائی ہے جو جہاد سے معذور ہیں۔ کمزور افراد، جن میں بوڑھے، بچے، معذور اور وہ لوگ شامل ہیں جو جسمانی طور پر جہاد کی مشقت برداشت نہیں کر سکتے، اور بیمار لوگ، اور وہ مفلس لوگ جن کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ جہاد کے لیے سامان خرید سکیں اور اپنا خرچہ برداشت کر سکیں — ان سب پر جہاد سے پیچھے رہنے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے خیرخواہ ہوں، یعنی ان کے دلوں میں ایمان اور اطاعت کا جذبہ ہو، اور وہ اپنی استطاعت کے مطابق دین کی خدمت کرتے رہیں۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے "محسنین" کا لفظ استعمال کیا ہے، یعنی وہ لوگ جو اپنے معذور ہونے کے باوجود نیکی کرتے ہیں، اپنے دلوں میں مسلمانوں کے لیے محبت رکھتے ہیں، اور جہاد سے پیچھے رہنے پر شرمندہ اور غمگین ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے محسنین پر کوئی الزام یا مؤاخذہ نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی اور جو ان کے بس میں تھا وہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت اور مغفرت فرماتا ہے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، جو ہر شخص کی استطاعت اور حالت کا لحاظ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جو لوگ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت چاہتے ہیں، لیکن حالات کی بنا پر ان سے کوئی عمل نہیں ہو پاتا، اللہ انہیں معاف فرما دیتا ہے اور ان کے لیے اجر و ثواب کا وعدہ فرماتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک آسان اور رحمت والا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کمزوریوں اور مجبوریوں کو جانتا ہے، اس لیے اس نے ہر حال میں رعایت دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق دین کی خدمت کریں، چاہے وہ جہاد ہو، علم حاصل کرنا ہو، یا اخلاق و کردار کی اصلاح۔ اللہ تعالیٰ نیتوں کو دیکھتا ہے، اور جو شخص سچی نیت سے نیکی کرتا ہے، اللہ اسے ضرور اجر دے گا۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اور وہ اپنے محسن بندوں کو کبھی محروم نہیں کرتا۔ آئیے ہم سب اپنی اپنی جگہ پر اللہ کی رضا کے لیے کام کریں، اور اپنی کمزوریوں کو عذر نہ بنائیں، بلکہ جو کچھ ہم کر سکتے ہیں، اسے پوری خلوص سے کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحمت اور مغفرت فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 89-93 — توبہ

89أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
خدا نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہی گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
90وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
91لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
92وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ
اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
93۞ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ ۚ رَضُوا بِأَن يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
91آیت

ترجمہ — توبہ 91

سورہ توبہ آیت 91 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں…

سورہ آیت 91/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 89–93. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں