توبہ · 90/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝٩٠
Wa jaaa`al mu`az ziroona minal A`raabi liyu`zana lahum wa qa`adal lazeena kazabul laaha wa Rasoolah; sayuseebul lazeena kafaroo minhum `azaabun aleem
📖 اردو ترجمہ
اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • المُعَذِّرُونَ: وہ لوگ جو بہانے بناتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی حقیقی عذر نہیں ہوتا۔
  • الأَعْرَابِ: صحرائی بدو، دیہات میں رہنے والے عرب۔
  • لِيُؤْذَنَ لَهُمْ: تاکہ انہیں (جہاد سے پیچھے رہنے کی) اجازت دی جائے۔
  • وَقَعَدَ: اور بیٹھ رہے، پیچھے رہ گئے۔
  • كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ: جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جھوٹ بولا (یعنی ایمان کا دعویٰ کیا لیکن حقیقت میں منافق تھے
  • عَذَابٌ أَلِيمٌ: دردناک عذاب۔

تفسیر:

یہ آیت غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئی، جب رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو جہاد کے لیے بلایا۔ اس سفر میں سخت گرمی، لمبا راستہ اور دشمن کی کثرت تھی، اس لیے بہت سے لوگوں نے پیچھے رہنے کے بہانے بنائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کچھ بدو (اعراب) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور جھوٹے بہانے پیش کرتے ہوئے اجازت مانگی کہ وہ جہاد میں شریک نہ ہوں۔ وہ کہتے تھے کہ ہم کمزور ہیں، ہمارے پاس سواری نہیں، یا ہمارے اہل و عیال زیادہ ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی سچا عذر نہیں تھا، وہ صرف بہانہ باز تھے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو اس سے بھی بدتر تھے — وہ منافق جو آئے تک نہیں، نہ انہوں نے کوئی عذر پیش کیا، بلکہ خاموشی سے بیٹھ رہے۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا، یعنی زبان سے ایمان کا دعویٰ کیا تھا لیکن دل سے کافر تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اہمیت نہ دی اور نہ ہی اللہ کے حکم کی پرواہ کی۔

اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں سے جنہوں نے کفر کیا، انہیں دنیا میں بھی عذاب پہنچے گا — جیسے قتل، ذلت اور رسوائی — اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جو انتہائی دردناک ہے۔ یہ عذاب ان کے جھوٹ اور نفاق کا نتیجہ ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کے راستے میں نکلنا اور جہاد کرنا (چاہے وہ علم کا جہاد ہو، مال کا، یا جان کا) ایمان کی نشانی ہے۔ جو لوگ بہانے بنا کر پیچھے بیٹھ جاتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان میں سچے ہوں، اپنے قول اور فعل میں مطابقت رکھیں، اور اللہ کے دین کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ یاد رکھیں، اللہ ہر ایک کے دل کا حال جانتا ہے، اور جو لوگ دین کے کاموں سے جی چراتے ہیں، وہ آخرت میں پشیمان ہوں گے۔ آئیے ہم اپنے رب کی اطاعت کریں اور اس کے رسول ﷺ کے نقش قدم پر چلیں، تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 88-92 — توبہ

88لَٰكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں
89أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
خدا نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہی گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
90وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
91لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
92وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ
اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
90آیت

ترجمہ — توبہ 90

سورہ توبہ آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے…

سورہ آیت 90/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں