توبہ · 92/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ ۝٩٢
Wa laa `alal lazeena izaa maaa atawka litahmilahum qulta laaa ajidu maaa ahmilukum `alaihi tawallaw wa a`yunuhum tafeedu minaddam`i hazanan allaa yajidoo maa yunfiqoon
📖 اردو ترجمہ
اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لِتَحْمِلَهُمْ: کہ آپ انہیں سواری پر سوار کرائیں (جہاد کے لیے لے جائیں
  • تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ: آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
  • حَزَنًا: غم اور رنج کی وجہ سے۔
  • أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ: اس بات پر کہ وہ خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان مخلص صحابہ کرام کا ذکر فرما رہے ہیں جو جہاد میں شریک ہونے کے لیے نہایت شوق اور خلوص کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ وہ آپ سے درخواست کر رہے تھے کہ انہیں سواری فراہم کریں تاکہ وہ آپ کے ساتھ جہاد کے لیے نکل سکیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواریاں موجود نہ تھیں، اس لیے آپ نے فرمایا: "میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں سوار کرا دوں۔" یہ سن کر وہ لوگ اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور وہ اس حالت میں لوٹ گئے کہ ان کے چہرے غم سے بوجھل تھے۔ ان کا غم اس لیے تھا کہ وہ جہاد کے عظیم شرف اور اس کے اجر و ثواب سے محروم رہ گئے، اور اس لیے بھی کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے کچھ نہ پاسکے۔

یہ وہ مخلص مومنین تھے جنہیں "بکاؤن" (روں والے) کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ جہاد سے محرومی پر بے تحاشا رویا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں واضح فرما دیا کہ ان پر کوئی الزام نہیں، نہ انہیں کوئی ملامت ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی اور ان کا جذبہ خالص تھا، لیکن وسائل کی کمی ان کے اختیار میں نہ تھی۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں نکلنے کی نیت اور خلوص ہی اصل چیز ہے۔ اگر کوئی شخص سچے دل سے جہاد یا نیکی کے کسی کام کا ارادہ کرے اور اسے وسائل کی کمی کی وجہ سے موقع نہ ملے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا پورا اجر عطا فرمائے گا۔ یہاں تک کہ آنسو بہانے والے ان صحابہ کا درجہ اللہ کے ہاں بہت بلند ہوا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ نیکی کے کاموں کے لیے ہمیشہ سچا شوق اور خلوص رکھیں، چاہے ہمارے پاس وسائل کم ہوں، کیونکہ اللہ نیتوں کو دیکھتا ہے اور اپنے مخلص بندوں کو کبھی محروم نہیں رکھتا۔ یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم پیغام ہے کہ دین کے کاموں سے پیچھے ہٹنے پر رنج و غم محسوس کریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں خرچ کرنے اور خدمت کرنے کی توفیق دے۔



📜 آیت 90-94 — توبہ

90وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
91لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
92وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ
اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
93۞ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ ۚ رَضُوا بِأَن يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں
94يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
92آیت

ترجمہ — توبہ 92

سورہ توبہ آیت 92 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے…

سورہ آیت 92/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 90–94. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں