ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُنفَكِّينَ: جدا ہونے والے، چھوڑنے والے۔
- الْبَيِّنَةُ: واضح دلیل، روشن علامت، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکین (بت پرست) اس وقت تک اپنے کفر اور گمراہی پر قائم رہے، اور اس سے جدا نہ ہوئے، جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور روشن علامت نہ آگئی۔ یہ واضح دلیل اور روشن علامت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے آخری نبی بنا کر بھیجا۔ ان کی بعثت سے پہلے یہ لوگ اپنے اپنے دین اور عقائد پر جمے رہے، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہیں توحید اور حق کی دعوت دی، تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔ گویا یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کفر و شرک پر جمے رہنا اور حق کو قبول نہ کرنا، رسول کے آنے کے بعد کسی بھی طرح قابلِ معافی نہیں، کیونکہ حجت قائم ہو چکی۔
فوائد:
- اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حجت قائم کرنے کے لیے رسول بھیجے، تاکہ کسی کو یہ عذر نہ رہے کہ ہمیں راستہ نہیں بتایا گیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد حق واضح ہو چکا ہے، لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے عقائد اور اعمال کی اصلاح کرے۔
- یہ آیت مسلمانوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے دین کو سمجھیں اور اس پر مضبوطی سے قائم رہیں، کیونکہ حق کے بعد صرف گمراہی ہے۔
- اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمت اور ہدایت کا دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا رکھتے ہیں، یہاں تک کہ اہل کتاب اور مشرکین کو بھی دعوت دی گئی، تاکہ وہ ایمان لا کر نجات حاصل کریں۔
📜 آیت 1-3 — بینہ
ترجمہ — بینہ 1
سورہ بینہ آیت 1 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ…سورہ آیت 1/8 — بینہ البينة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بینہ سنیں, بینہ ترجمہ, بینہ mp3, بینہ pdf. آیت 1–3. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








