ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَأَثَرْنَ: انہوں نے (گھوڑوں نے) اٹھایا، ہیجان پیدا کیا۔
- بِهِ: اس کے ذریعے، یعنی اس دوڑنے کے سبب۔
- نَقْعًا: گرد و غبار۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کہ جب وہ دوڑتے ہیں تو اپنی تیز رفتاری اور سخت دوڑ کی وجہ سے زمین سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ یہ غبار اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ فضا کو ڈھانپ لیتا ہے، جس سے دشمن کے دل میں رعب اور خوف پیدا ہوتا ہے۔ یہ منظر جہاد کی عظمت اور اس کی قوت کا مظہر ہے، جہاں گھوڑوں کی دوڑ، ان کی قوت، اور ان کے قدموں سے اٹھنے والا غبار سب کچھ اللہ کی راہ میں قربانی کی علامت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی محنت اور جدوجہد کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اپنی طاقت صرف کرتے ہیں۔
فوائد:
- یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا اور اپنی قوت و وسائل کو اس کی خاطر استعمال کرنا انتہائی پسندیدہ عمل ہے، چاہے اس میں دشمن کے خلاف سخت محنت اور مشقت ہی کیوں نہ اٹھانی پڑے۔
- اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے خلوص اور ان کی کوششوں کو دیکھتا ہے، اور جو لوگ اس کی راہ میں اپنا سب کچھ لگا دیتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک بہت اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔
- یہ آیت مسلمانوں کو جہاد اور دفاع کی ترغیب دیتی ہے، اور انہیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں کی گئی ہر چھوٹی بڑی کوشش ضائع نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔
📜 آیت 2-6 — عاديات
ترجمہ — عاديات 4
سورہ عاديات آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیںسورہ آیت 4/11 — عاديات العاديات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عاديات سنیں, عاديات ترجمہ, عاديات mp3, عاديات pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








