سَبِیلِ اللہ: اللہ کا راستہ، یعنی دینِ اسلام اور توحید۔
یَبْغُونَهَا عِوَجًا: اس راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں، یعنی اس میں کجی اور اعوجاج پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
بِالْآخِرَةِ: آخرت کے دن، قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا پر ایمان۔
تفسیر:
یہ آیت ان ظالموں اور سرکشوں کا ذکر کر رہی ہے جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف خود راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا راستہ ٹیڑھا ہو جائے، یعنی وہ اس میں شکوک و شبہات پیدا کریں، اسے مشکل اور پیچیدہ دکھائیں تاکہ لوگ اس پر چلنا چھوڑ دیں۔ وہ حق کو باطل اور باطل کو حق کے روپ میں پیش کرتے ہیں تاکہ لوگ گمراہ ہو جائیں۔
ان کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ وہ موت کے بعد زندگی، حساب و کتاب اور جنت و جہنم کا انکار کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے دلوں میں آخرت کا خوف اور یقین نہیں، اس لیے وہ بے باک ہو کر ظلم و گمراہی کے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ اگر انہیں یقین ہوتا کہ ان کے اعمال کا حساب ہوگا اور انہیں سزا یا جزا ملے گی، تو وہ اس طرح لوگوں کو راہِ حق سے روکنے کی جسارت نہ کرتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان بالآخرت انسان کے دل میں تقویٰ اور ذمہ داری کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے، وہ کبھی لوگوں کو حق سے نہیں روکتا، بلکہ خود بھی راہِ راست پر چلتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے راستے کو اپنے قول و فعل سے خوبصورت بنائیں، نہ کہ کسی کو اس سے روکیں۔ یاد رکھیں، جو لوگ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے نقصان کا سامان کرتے ہیں، کیونکہ اللہ کا راستہ ہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔
بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے
یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) نہیں ہرا سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔