بقرہ · 140/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۝١٤٠
Am taqooloona inna Ibraaheema wa Ismaa`eela wa Ishaaq wa Ya`qooba wal asbaata kaanoo Hoodan aw Nasaaraa; qul `a-antum a`lamu amil laah; wa man azlamu mimman katama shahaadatan `indahoo minallaah; wa mallaahu bighaafilin `ammaa ta`maloon
📖 اردو ترجمہ
(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ہوداً: یہودی
  • نصارىٰ: نصرانی
  • الاسباط: حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے بارہ قبیلوں کے انبیاء

تفسیر:

اے اہل کتاب! کیا تم واقعی یہ کہتے ہو کہ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور ان کی اولاد میں سے جو انبیاء گزرے ہیں، وہ سب یہودی یا نصرانی تھے؟ یہ تمہارا دعویٰ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے، کیونکہ یہ تمام انبیاء تورات اور انجیل کے نزول سے بہت پہلے اس دنیا سے رحلت فرما چکے تھے۔ تورات تو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی اور انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، جبکہ یہ بزرگ ان سے صدیوں پہلے گزر چکے تھے۔ پھر وہ ان ادیان پر کیسے ہو سکتے ہیں جو ان کے بعد وجود میں آئے؟

اے نبی! آپ ان سے کہیں کہ اگر تمہیں ان انبیاء کے دین کا علم ہے تو بتاؤ، کیا تمہیں زیادہ علم ہے یا اللہ تعالیٰ کو؟ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب قرآن میں صاف صاف بیان فرما دیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے نہ نصرانی، بلکہ وہ یکسو مسلمان تھے اور شرک سے بالکل پاک تھے۔ کیا تمہارا علم اللہ کے علم سے بڑھ کر ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کی طرف سے اپنے پاس موجود شہادت کو چھپائے؟ تمہاری اپنی کتابوں میں یہ موجود ہے کہ یہ انبیاء مسلمان تھے اور یہ بھی درج ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی ہیں، لیکن تم اپنی خواہشات اور دنیاوی مفادات کی خاطر ان حقائق کو چھپا رہے ہو۔ یہ تمہارا طرز عمل انتہائی ظالمانہ ہے۔

اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، تمہارے چھپانے اور ظاہر کرنے سے باخبر ہے، اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ سچائی کو کبھی نہیں چھپانا چاہیے، چاہے کتنا ہی بڑا فائدہ کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہ کسی کو بھی اس کی غلطیوں پر چھوڑے گا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، اور دوسروں کو بھی سچائی کی طرف بلائیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ وہ ہر حال میں حق پر قائم رہے اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ آئیے ہم بھی انہی کی پیروی کریں اور اپنے ایمان کو خالص اللہ کے لیے بنائیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 138-142 — بقرہ

138صِبْغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ
(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
139قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ
(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
140أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں
141تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
142۞ سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
140آیت

ترجمہ — بقرہ 140

سورہ بقرہ آیت 140 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو…

سورہ آیت 140/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 138–142. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں