(اے محمد) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سَلْ: پوچھیے، دریافت کیجیے۔
آیَةً بَیِّنَةً: واضح نشانی، روشن دلیل اور کھلی ہوئی علامت۔
یُبَدِّلْ: تبدیل کرے، بدل دے، انکار کرے یا تحریف کرے۔
نِعْمَتَ اللہِ: اللہ کی نعمت، یعنی اللہ کا دین، ہدایت اور وہ واضح دلائل جو اس نے اپنے انبیاء پر نازل کیے۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ بنی اسرائیل سے پوچھیے، ان لوگوں سے جو آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور ضد اور عناد پر اڑے ہوئے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے آباء و اجداد کو کتنی واضح نشانیاں عطا فرمائی تھیں! انہیں تورات اور انجیل میں ایسے روشن دلائل دیے گئے تھے جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے تھے، اور ان کی اپنی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صاف صاف پیشگوئیاں موجود تھیں۔ مگر انہوں نے ان تمام نشانیوں کو جھٹلایا، ان سے اعراض کیا، اور انہیں تحریف و تبدیل کر کے ان کے اصلی مقام سے ہٹا دیا۔
یہ سوال دراصل انہیں جھڑکنے اور ان پر الزام ثابت کرنے کے لیے ہے، تاکہ وہ خود ہی اقرار کریں کہ ان کے پاس حق آ چکا تھا، لیکن انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ اور جو شخص اللہ کی نعمت کو — جو اس کا دین اور اس کی ہدایت ہے — اس کے آنے کے بعد بدل دے، یعنی اسے پہچان لے اور پھر اس کا انکار کرے، یا اسے مسخ کر کے اس کی شکل بگاڑ دے، تو اللہ تعالیٰ اسے سخت ترین سزا دے گا۔ اللہ کا عذاب بہت شدید ہے، اور وہ ان لوگوں سے انتقام لینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتا جو اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں اور روشن دلائل کے باوجود حق سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو نعمتیں نازل فرمائی ہیں، سب سے بڑی نعمت ایمان اور ہدایت ہے۔ جب اللہ کسی کو حق سمجھنے کی توفیق دے دے، اور اس کے سامنے دلائل واضح ہو جائیں، تو اسے چاہیے کہ اس نعمت کو مضبوطی سے تھام لے اور اسے کبھی ضائع نہ کرے۔ بنی اسرائیل کا انجام ہمارے لیے عبرت ہے — انہوں نے نعمت کو بدل دیا، تو اللہ نے انہیں ذلت اور رسوائی میں مبتلا کر دیا۔ آج ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو مضبوطی سے پکڑیں، قرآن و سنت کو اپنا راہنما بنائیں، اور اللہ کی نعمتِ ایمان کی قدر کریں۔ یہ نعمت ہمارے پاس امانت ہے، اسے کسی قیمت پر گنوانا نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اپنے ایمان پر قائم رہتے ہیں۔ آمین۔
کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے
اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔