بقرہ · 254/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۝٢٥٤
Yaa ayyuhal lazeena aamanoo anfiqoo mimmaa razaqnaakum min qabli ai yaatiya yawmul laa bai`un fee wa la khullatunw wa laa shafaa`ah; walkaa firoona humuz zaalimoon
📖 اردو ترجمہ
اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کوئی سفارش (بغیر اللہ کے اذن کے)۔ اور کافر ہی ظالم ہیں۔

معانی الفاظ:

  • أَنفِقُوا: خرچ کرو، راہِ خدا میں دے دو۔
  • رَزَقْنَاكُم: جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے۔
  • لَا بَيْعٌ فِيهِ: اس دن نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی، یعنی نہ کوئی چیز خرید کر نجات حاصل کی جا سکے گی۔
  • خُلَّةٌ: گہری دوستی، محبت اور دوستی کا رشتہ۔
  • شَفَاعَةٌ: سفارش، کسی کا کسی کے لیے مداخلت کرنا۔

تفسیر:

اے ایمان لانے والو! اللہ نے تمہیں جو مال و دولت، رزق اور نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، یعنی زکوٰۃ ادا کرو اور نیک کاموں میں صدقہ و خیرات دو۔ یہ کام اس سے پہلے کرو کہ وہ دن آئے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی، نہ کوئی دوستی کسی کے کام آئے گی اور نہ ہی کوئی سفارش کسی کو فائدہ دے گی۔

یعنی قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ وہاں کوئی کاروبار نہ ہوگا جس سے انسان اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر سکے، کوئی دولت نہ ہوگی جسے دے کر انسان عذاب سے بچ سکے، نہ کوئی دوست یا عزیز اس دن کسی کی مدد کر سکے گا، اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا ہوگا جو اللہ کے اذن کے بغیر کسی کے حق میں سفارش کر سکے۔ اس دن ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ تنہا کھڑا ہوگا اور صرف اپنے اعمال کا بدلہ پائے گا۔

لہٰذا عقل مندی کا تقاضا ہے کہ انسان اس سے پہلے کہ وہ دن آئے، اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے، کیونکہ یہی وہ سرمایہ ہے جو اس دن اس کے کام آئے گا۔ جو لوگ اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، وہ درحقیقت اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "کافر ہی ظالم ہیں" یعنی جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے، اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، وہ حقیقی ظالم ہیں، کیونکہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کی اور اپنے نفس پر ظلم کیا۔

پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں جلدی کریں، کیونکہ یہ موقع ہمیشہ نہیں رہے گا۔ آج ہمارے پاس مال ہے، ہم خرچ کر سکتے ہیں، لیکن کل قیامت کے دن نہ خرید و فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مال میں سے اللہ کا حق ادا کریں، زکوٰۃ دیں، صدقہ و خیرات کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، تاکہ ہم اس دن کامیاب ہو سکیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور اس دن کی رسوائی سے بچیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 252-256 — بقرہ

252تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو
253۞ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ
یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
254يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ
اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں
255اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے
256لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
254آیت

ترجمہ — بقرہ 254

سورہ بقرہ آیت 254 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا…

سورہ آیت 254/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 252–256. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں