ترجمہ — Tafsir
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ
لغت کے معانی:
- تِلْكَ الرُّسُلُ: یہ رسول (جن کا ذکر پہلے ہوا)۔
- فَضَّلْنَا: ہم نے فضیلت دی۔
- كَلَّمَ اللَّهُ: اللہ نے کلام کیا (ہم کلامی کی)۔
- رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ: بعض کو درجات میں بلند کیا۔
- الْبَيِّنَاتُ: واضح معجزات اور دلائل۔
- أَيَّدْنَاهُ: ہم نے اس کی تائید کی۔
- رُوحِ الْقُدُسِ: جبرائیل علیہ السلام۔
- اقْتَتَلَ: آپس میں لڑائی کی۔
- الْبَيِّنَاتُ: روشن دلیلیں اور نشانیاں۔
تفسیر:
یہ وہ رسول ہیں جن کا ذکر اس سے پہلے کی آیات میں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی۔ یہ فضیلت ان کے اعمال اور مقامات کے اعتبار سے تھی، نہ کہ ان کی ذات میں کوئی فرق تھا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن سے اللہ نے براہِ راست کلام فرمایا، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام، اور کچھ ایسے ہیں جنہیں درجات میں بلند کیا گیا، جیسے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، جنہیں تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، نبوت ان پر ختم کی گئی، اور ان کی امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی۔
اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو واضح معجزات عطا فرمائے، جیسے پیدائشی اندھے اور کوڑھ کے مریض کو شفا دینا، اور مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرنا۔ نیز ان کی تائید جبرائیل علیہ السلام سے کی، جو روح القدس ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ان رسولوں کے بعد آنے والے لوگ آپس میں نہ لڑتے، لیکن ان کے پاس واضح دلائل آجانے کے باوجود انہوں نے اختلاف کیا۔ پھر ان میں سے کچھ ایمان لائے اور کچھ کفر پر قائم رہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنی عدل سے گمراہ چھوڑ دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو مختلف درجات عطا فرمائے، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل مقام دیا۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر اور باعثِ محبت ہے کہ ہم ایسے نبی کی امت میں ہیں جو تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی سنت پر چلیں اور ان کی محبت کو اپنے دلوں میں بٹھائیں۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف اور پھوٹ اللہ کو پسند نہیں، اس لیے ہمیں اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے اور آپس میں لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں اپنی رحمت سے نوازے۔ آمین۔
📜 آیت 251-255 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 253
سورہ بقرہ آیت 253 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان…سورہ آیت 253/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 251–255. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








