بقرہ · 274/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝٢٧٤
Allazeena yunfiqoona amwaalahum billaili wan nahaari sirranw wa `alaaniyatan falahum ajruhum `inda Rabbihim wa laa khawfun `alaihim wa laa hum yahzanoon
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم
📜

ترجمہ — Tafsir

اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ: رات اور دن کے اوقات۔

سِرًّا: چھپا کر، پوشیدہ طور پر۔

عَلَانِيَةً: کھلے عام، ظاہر طور پر۔

أَجْرُهُمْ: ان کا ثواب اور بدلہ۔

لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ: انہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔

وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ: اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

یہ آیتِ کریمہ ان مخلص بندوں کے فضائل بیان فرما رہی ہے جو اپنے مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے اموال رات اور دن میں، چھپا کر بھی اور کھلے عام بھی، صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس مکمل اجر و ثواب ہے۔ انہیں نہ کسی چیز کا خوف ہوگا اور نہ وہ کسی بات پر غمگین ہوں گے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انفاق کی چار صورتیں بیان فرمائیں: رات کا انفاق، دن کا انفاق، پوشیدہ انفاق اور ظاہری انفاق۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن کا طرزِ عمل ہمہ وقت اور ہر حال میں اللہ کی رضا کے مطابق ہونا چاہیے۔ رات ہو یا دن، تنہائی ہو یا مجمع، وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے۔ پوشیدہ صدقہ ریا اور دکھاوے سے بچاتا ہے، جبکہ ظاہری صدقہ دوسروں کے لیے ترغیب کا باعث بنتا ہے اور اسلام کے اجتماعی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مال کو اللہ کی امانت سمجھ کر اسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، نہ کسی کے احسان کا انتظار کیا اور نہ کسی سے کوئی بدلہ چاہا۔ ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تین عظیم بشارتیں بیان فرمائیں: اول یہ کہ ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے، جو انہیں قیامت کے دن پورا پورا دیا جائے گا۔ دوم یہ کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا، نہ آخرت کے مراحل کا، نہ حساب و کتاب کا، نہ کسی پیش آنے والے حادثے کا۔ سوم یہ کہ وہ کسی بات پر غمگین نہیں ہوں گے، نہ دنیا کے کھوئے ہوئے مال پر، نہ کسی دینی یا دنیاوی نقصان پر۔

یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی نعمت ہے جو وہ اپنے مخلص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، چاہے وقت رات کا ہو یا دن کا، چاہے حالات پوشیدگی کے ہوں یا ظاہری۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں ہمارے اعمال کو دیکھتا ہے اور ہر نیکی کا بدلہ دینے والا ہے۔

اس آیت کی روشنی میں ہمیں اپنے معاشرے میں بھی اس طرزِ عمل کو اپنانا چاہیے کہ ہم اپنے اموال میں سے اللہ کا حق نکالیں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور یہ سب کچھ صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں، نہ کہ دکھاوے اور شہرت کے لیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور اس کے اجر عظیم تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 272-276 — بقرہ

272۞ لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،
273لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے
274الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم
275الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے
276يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ
خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
274آیت

ترجمہ — بقرہ 274

سورہ بقرہ آیت 274 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور…

سورہ آیت 274/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 272–276. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں