انبیاء · 33/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ۝٣٣
Wa Huwal lazee khalaqal laila wannahaara washshamsa wal qamara kullun fee falakiny yashbahoon
📖 اردو ترجمہ
اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَلَک: ستاروں کا مدار، یعنی وہ دائرہ یا راستہ جس پر چلتے ہوئے اجرامِ فلکی گردش کرتے ہیں۔
  • یَسْبَحُونَ: تیرتے ہیں، تیز رفتاری سے چلتے ہیں، جیسے پانی میں تیرنے والا بلا رکاوٹ آگے بڑھتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے رات اور دن کو پیدا کیا۔ رات کو اس لیے بنایا کہ اس میں لوگ سکون حاصل کریں اور اپنی تھکاوٹ دور کریں، اور دن کو اس لیے بنایا کہ لوگ اس میں اپنی روزی کی تلاش اور معاشی ضروریات پوری کریں۔ اسی طرح اس نے سورج کو دن کی روشنی کی علامت بنایا اور چاند کو رات کی روشنی کا ذریعہ۔ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے مخصوص مدار میں تیرتا ہوا چلتا ہے، نہ سورج اپنے راستے سے ہٹتا ہے اور نہ چاند اپنے مدار سے ذرا برابر بھی منحرف ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی قدرت سے ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق، مالک اور منتظم صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت کے نمونے پیش فرمائے ہیں تاکہ انسان غور و فکر کرے اور اپنے رب کو پہچانے۔ رات اور دن کا بدلنا، سورج اور چاند کا اپنے اپنے مدار میں انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ چلنا، یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ کائنات خود بخود نہیں بن گئی، بلکہ اس کا ایک عظیم خالق ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ جب انسان ان مناظر پر غور کرتا ہے تو اس کا دل ایمان کی روشنی سے منور ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جو انسان کو سکونِ قلب عطا کرتا ہے اور اسے زندگی کے ہر موڑ پر اللہ پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ انسان کے لیے پیدا کیا ہے، تاکہ وہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھائے اور اپنے رب کا شکر ادا کرے۔ پس اے انسان! اپنے رب کی ان نعمتوں پر غور کر، اس کی عبادت کر، اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزار، کیونکہ یہی کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے۔



📜 آیت 31-35 — انبیاء

31وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں
32وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ
اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں
33وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں
34وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ
اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے
35كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
33آیت

ترجمہ — انبیاء 33

سورہ انبیاء آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور…

سورہ آیت 33/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں