ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْخُلْدَ: دوام بقاء، ہمیشہ زندہ رہنا، موت سے محفوظ رہنا۔
- أَفَإِن مِّتَّ: کیا اگر آپ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وفات پا جائیں۔
- فَهُمُ الْخَالِدُونَ: تو کیا یہ (کافر) ہمیشہ زندہ رہیں گے؟
تفسیر:
اے محبوب رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ سے پہلے کسی بھی انسان کو اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کی زندگی نہیں دی، نہ کسی نبی کو، نہ کسی ولی کو، نہ کسی عام انسان کو۔ یہ دنیا فنا کا گھر ہے، یہاں آنے والا ہر شخص ایک دن کوچ کر جائے گا۔ اللہ کا قانونِ قدرت یہی ہے کہ ہر جاندار کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ان مشرکین سے پوچھتا ہے جو آپ کی موت کا انتظار کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ اگر یہ نبی مر جائے تو ہم اس کے دین سے نجات پا جائیں گے: "اے نبی! اگر آپ وفات پا جائیں تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟" ہرگز نہیں! یہ بھی مریں گے، اور ان کی موت بھی یقینی ہے۔ موت کا راستہ سب کو عبور کرنا ہے، چاہے وہ نبی ہو یا عام انسان، مومن ہو یا کافر۔
اس آیت میں ایک بڑی نصیحت ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، اس کی محبتوں میں غرق ہو کر آخرت کو نہ بھولیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہ رہی، تو پھر ہماری کیا حیثیت ہے؟ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی پیروی میں گزاریں، اور اس دن کے لیے تیاری کریں جب ہم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
یہ آیت اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام بھی بشر تھے اور انہوں نے بھی وفات پائی، کیونکہ اللہ نے کسی بشر کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔ پس ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو غنیمت جانیں، نیک اعمال کریں، اور اللہ کی رحمت کے طلب گار رہیں، کیونکہ آخرت ہی کا دارالبقا ہے۔
📜 آیت 32-36 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 34
سورہ انبیاء آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی…سورہ آیت 34/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








