Alam tara annal laaha yuzjee sahaaban summa yu`allifu bainahoo summa yaj`aluhoo rukaaman fataral wadqa yakhruju min khilaalihee wa yunazzilu minas samaaa`i min jibaalin feehaa mim barain fa yuseebu bihee mai yashaaa`u wa yasrifuhoo `am mai yashaaa`u yakkaadu sanaa barqihee yazhabu bil absaar
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے، اور ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں، ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرکے بینائی کو اُچکے لئے جاتی ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا نديدهاى كه خدا ابرهايى را به آهستگى مىراند، آنگاه آنها را به هم مىپيوندد و ابرى انبوه پديد مىآورد و باران را بينى كه از خلال آن بيرون مىآيد. و از آسمان، از آن كوهها كه در آنجاست تگرگ مىفرستد و هر كه را خواهد با آن مىزند و از هر كه مىخواهد بازش مىدارد. روشنايى برقش نزديك باشد كه ديدگان را كور سازد.
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے، اور ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں، ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرکے بینائی کو اُچکے لئے جاتی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُزْجِی: آگے بڑھاتا ہے، چلاتا ہے۔
رُکَامًا: تہہ بہ تہہ، ایک دوسرے پر چڑھا ہوا۔
الْوَدْقَ: بارش۔
خِلَالِهِ: اس کے درمیان سے، اس کے سوراخوں سے۔
سَنَا: چمک، روشنی۔
تفسیر:
کیا تم نے آنکھوں سے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو کس طرح چلاتا ہے؟ وہ انہیں ہوا کے ذریعے جہاں چاہتا ہے لے جاتا ہے، پھر ان کے پراگندہ ٹکڑوں کو آپس میں ملا کر ایک اکٹھا بادل بنا دیتا ہے، پھر اسے تہہ بہ تہہ جمع کر دیتا ہے۔ اس کے بعد تم دیکھتے ہو کہ اس بادل کے درمیان سے بارش کے قطرے نکل نکل کر برستے ہیں۔ اور وہی اللہ آسمان سے ان بادلوں سے جو پہاڑوں کی مانند عظیم ہیں، اولے برساتا ہے۔ یہ اولے کبھی اسے جس پر چاہتا ہے نقصان پہنچاتے ہیں اور کبھی جس سے چاہتا ہے ٹال دیتے ہیں، سب کچھ اس کی حکمت اور مشیت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس بادل کی بجلی کی چمک اتنی تیز ہوتی ہے کہ قریب ہوتا ہے کہ وہ آنکھوں کی بینائی ہی چھین لے۔
یہ منظر قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے جو اللہ کی عظمت، اس کی حکمت، اس کے اختیار اور اس کی رحمت پر دلالت کرتا ہے۔ جب انسان اس نظامِ قدرت پر غور کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی کبریائی کے سامنے جھک جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جس ذات نے بادلوں کو اس طرح چلانا، جوڑنا، اور ان سے بارش اور اولے برسانا سکھایا، وہی ذات قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
یاد رکھو! یہ بارش اور یہ اولے کسی کا ذاتی کارنامہ نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت اور قدرت کا نتیجہ ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے سیراب کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اپنی حکمت سے روک لیتا ہے۔ اس لیے مومن کا کام ہے کہ وہ ان مناظرِ قدرت سے سبق حاصل کرے، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے، اور اس کے عذاب سے ڈرتا رہے۔ یہی وہ ایمان ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور اس کی حفاظت میں رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی قدرت کی نشانیوں پر غور کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے، اور ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں، ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرکے بینائی کو اُچکے لئے جاتی ہے
اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تو اس میں بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔